Skip to content
  • Thursday, 29 January 2026
  • 3:12 pm
  • Follow Us
saraikinews
  • صفحہ اول
  • قومی
    • کراچی
    • اسلام آباد
    • لاہور
  • دنیا
  • مضمون
    • فیصل شہزاد چغتائی
    • پروفیسر اللہ دتہ قادری
    • پروفیسر اللہ ݙتہ
    • شہزاد حسین بھٹی
  • ٹیکنالوجی
  • کھیڈ
  • شوبز
  • کاروبار
  • About us
    • Privacy Policy
    • Contact Us
    • DMCA
    • Join Us
  • رابطہ
  • Home
  • صوبہ سرائیکستان کا نام لینے سے لوگوں کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتا ہے؟
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون

صوبہ سرائیکستان کا نام لینے سے لوگوں کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتا ہے؟

saraikinews Apr 23, 2020 0

صوبہ سرائیکستان کا نام لینے سے لوگوں کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتا ہے؟
تحریر: فیصل شہزاد چغتائی

ماضی میں جب جب سرائیکی کاز نے گرم جوشی پکڑی اور جمہوری حکومت نے دلچسپی ظاہر کی تو نیشنل پارٹیاں اپنے اپنے مفاد کے نظر جو اپنی اپنی باری پر اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہیں نئے سوشے چھوڑ دیتی ہیں۔ یہ ایسا ہے کہ پہلے سے طے ہو کہ یار میڈیا پر آج پریس کے سامنے تم یہ بولو گے میں اس کے جواب میں یہ کہوں گا ۔ اگر ان تمام نیشنل پارٹیوں کو بیٹھاں بھی دیا جاتا ہے اور سمجھایا جاتا ہے کہ یہ اس خطے کی بات ہے جہاں کے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں اور محرومیوں کا سامنا ہے ان کی آواز انصاف کے در تک پہنچنے سے پہلے دب جاتی ہے اگر نہیں دبتی تو دبا دی جاتی ہے یہ وہ خطے ہے جہاں اگر بچے اعلی تعلیم حاصل کر لیں تو ان کے لیے کوئی روزگار کا سلسلہ نہیں وہ پردیس میں جا کر اپنا مستقبل تلاش کرتے ہیں

یہ ایسے لوگوں کی حق کی آواز ہے جو اپنے حق کے لیے بولنا بھی نہیں جانتے۔ اس خطے کے درد جب ان سب کے سامنے رکھے جاتے ہیں تو کسی حد تک متفق ہونے کے قریب ہوتے ہیں ہیں تو ایک آواز سندھ سے ابھرتی ہے کہ ہمیں بھی کراچی علیحدہ صوبے کی شکل میں چاہئے یہ آواز اٹھانے والے ایم کیو ایم کے کارندے ہیں جو موقعے کی تلاش میں گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ کب سرائیکستان کی بات ہو اور کب ہم کودیں کہ جی ہمیں بھی صوبہ بنا کر دیں ، یہ دیکھا دیکھی میں ھزارا سے بھی آواز اٹھتی ہے کہ جی اساں کوں وی صوبہ چائی دیو، یہ سلسلہ ماضی میں چلتا آ رہا ہے اور اب تک قائم و دائم ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے پیش رفت کی صوبہ بنانے کے لیے تو اپر پنجاب سے پٹواریوں پر مشتمل ٹولہ مخالفت کے لیے نکل پڑا کہ نا جی اے تے تقسیم اے ، ہم پنجاب تقسیم نہیں ہونے دیں گے مرجائیں گے مگر صوبہ پنجاب تقسیم نہیں ہونے دیں گے

مجھے بہت حیرانگی ہوتی ہے پہلے تو ان لوگوں پر جو پہلے سو رہے ہوتے ہیں جب سرائیکی کاز گرم جوشی میں آتا ہے اور حل ہونے کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو سب کو اپنا اپنا حق نظر آنے شروع ہو جاتا اس سے پہلے تو اگر سندھ کے شہر کراچی کا اگر ماضی کے پنے کچھ پلٹیں تو ہمیں سوائے بوری بند لاشوں کے کچھ نہیں ملتا ، کسی کا بھائی کسی کی بہن ، کسی کی ماں ، کسی کا باپ ، کسی کا دوست ٹارگٹ کلنگ میں مرا ہوا نظر آتا ہے اب اس نہج پر امن ہے اب بھی تو وہی کراچی ہے ؟ اب کیسے امن ممکن ہوا ہے ؟ اب کیوں دھماکے نہیں ہو رہے جو دور دو نیشنل پارٹیوں کے درمیان ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کے درمیان گزرے لوگوں نے واقعی اذیت اور تکلیف میں گزارے، بہت قربانیاں دی ہیں مزید مہربانی فرمائی جائے کہ ٧١ سال سے منتظر سرائیکی خطے کے غیور لوگوں کو ان کا حق دیا جائے، کراچی ایک صنعتی شہر ہے جو گزارا کر سکتا ہے مگر سرائیکی خطے زراعت پر مشتمل ہے جس کی کمائی لاہور پر اور اس کے لیے واہ واہ کرنے والے شہروں پر خرچ کر دی جاتی ہے۔

کراچی میں تمام سہولتیں ہیں سرائیکی خطے میں لوگ آج بھی اپنی گلیاں پکی ہونے پر جھمریاں مارتے ہیں خوش ہوتے ہیں آج بھی بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں بجلی تک نہیں آئے آج بھی ان کی زمینوں پر کوئی نا کوئی قابض ہو رہا ہے اور وہ بیچارے اپنی درخواستیں لیے ہفتوں انصاف کے در پر سوالی بن کر پڑے رہتے ہیں جیسے کراچی کے جناح ہسپتال کے گراونڈ میں مریض کیساتھ آنیوالے مریض رہ رہے ہوتے ہیں انصاف نہیں ملتا ، تاریخ ملتی ہے اور تاریخ پر تاریخ ملتی ہے یہاں تک کہ کیس جمع کروانے والا دنیا سے ہی رخصت ہو جاتا ہے بچے زمینیں چھن جانے کی وجہ سے بے گھر ہو جاتے ہیں اور پھر کسی بڑے شہر میں ہجرت کر کے زندہ رہنے کے لیے مزدوری کرتے ہیں اور گھر چلاتے ہیں۔ خدارا ، سرائیکی خطہ کو صوبائی شکل دینا وقت کی ضرورت ہے اس سے زراعت کو بڑھنے میں مدد ملے گی اور یہ زراعت پاکستان کے ہر شہر ہر محلے اور گلی تک پہنچے گی۔ کیا گندم ، چاول ، چنا ، گنا ، چینی ، پیاز ، آلو ، گھوبی ، کسی پنجابی ، سندھی ، بلوچ ، پختون ، مہاجر سے پوچھے گی کہ تم کس زبان سے منسلک ہو تم نہیں کھا سکتے کیونکہ یہ سرائیکی خطے کی زمین سے آئی ہے ، ادھر ایک مثال یاد آ گئی کہ میٹھا میٹھا ھپو ھپو ، کڑوا کڑوا تھو تھو ۔۔۔ مخالفت صرف نیشنل سیاسی پارٹیاں ہی نہیں کرتے صوبے کی تحریک سنجیدگی میں ہے مگر اس میں رکاوٹ کراچی صوبہ اور ہزارہ صوبہ بھی کسی نہ کسی طور پر آ رہے ہیں۔ اور یہ سلسلہ کب تک رہے گا اس کے بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر صوبہ سرائیکستان ، وجود میں نہیں آتا تو ہم دوسرے ملکوں سے بھیک مانگنے کے قریب ہو جائیں گے کہ ہمیں گندم دے دو ، ہمیں پیاز دے دو ، ہمیں ٹماٹر دے دو ۔۔۔

ہم اپنے غلط اختلافات کی وجہ سے ایک زراعی خطے کو بنجر کر دیں گے اور اس کا ذمہ دار ہر وہ ذھن ہو گا جو اس وقت سرائیکی خطے کو صوبہ بننے کی مخالفت کر رہا ہے اور وہ شخص ہوگا جو پنجاب کو تقسیم کہتا ہے اور ہر وہ شخص ہوگا معذرت کیساتھ جو کسی دوسرے کو حق ملتا دیکھ کر لپک پڑتا ہے کہ پہلے مجھے دے دو، اس سے تو کسی کو بھی حق نہیں ملے گا جب حقدار کی اس طرح تذلیل ہوگی تو کیسے حق ملے گا؟ اب ذرا ق لیگ کی شفقت دیکھیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اعتماد میں آئی اور اب اس کے صلے میں وہ بھی خواہشمند ہے کہ صوبہ جنوبی پنجاب بنا کر اس کی باگ دوڑ چوھدری برادران کے ہاتھ سپرد کر دی جائے مطلب یہ کہ لاہور میں بیٹھے چند ذھن جو صوبہ پنجاب کو ایک سلطنت ، بادشاہت ، جاگیر بنا چکے ہیں اسی طرح چوھدری برادران بھی جنوبی پنجاب کو اپنی سلطنت ، بادشاہت یا جاگیر قائم کریں تاکہ نہ رھاسی ڈھولا تے نا پوسی رولا

سرائیکی زبان کا رد کرتے کرتے اسے پنجابی کا لہجہ ، پھر سرائیکی صوفیائے کرام کو پنجابی صوفیائے کرام لکھنا اور سرائیکی شاعری افسانوں ثقافت ، تہذیب کو پنجابی ثقافت ، پنجابی شاعری افسانے لکھنے کی شروعات کرنا تاریخ کو بدلتے رھنا ، یہی ظاہر کرتا ہے اگر فرنٹ لائن پر کوئی سرائیکیوں کا اگر کوئی دشمن ہے تو وہ ن لیگ ہے کیونکہ اس سے جڑے تمام افراد چاہے رانا ثناء اللہ ہو ، یا دیگر پٹواری تمام کو بہت تکلیف ہوتی ہے جب جب سرائیکستان کی آواز لگے۔ تکلیف کیونکر ؟ کیا ! سرائیکی خطے کے کسی شہر نے کسی پنجابی کی شناخت پر قبضہ کیا ؟ کوئی ایک سرائیکی دیکھا دیں جس نے اپنے نام کے ساتھ چوھدری لگایا ہو؟ ن لیگ کو سمجھنا چاہئے وقت ایک سا نہیں رہتا ، وقت ضرور بدلتا ہے ، کب تک کسی خطے کا مال لاہور اور اس سے ملحقہ نوازے جانے والے شہروں پر خرچ ہوتا رہے گا؟

ہزارہ صوبہ ایک دیرنہ مطالبہ ہے اس وقت اگر ھزارہ صوبہ تاخیر میں بھی جاتا ہے تو اس سے نقصان نہیں ہوگا، اس وقت جو سیاسی پارٹی سمجھداری کا مظاہرہ کریگی وہ اپنا ووٹ بینک مضبوط کر جائے گی، صرف سیکریٹریٹ کے اعلان کرنے پر سرائیکی خطے کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑی تھی جب صوبہ سرائیکستان کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تو یقین مانے اس سیاسی پارٹی کا نام سنہری حروف سے تاریخ میں دیرپا رہے گا اور یاد رکھا جائے گا جس طرح آج بھی اس خطے کے لوگ اپنے محسنوں کو اچھے لفظوں میں یاد رکھتے ہیں ویسے ہی یاد رکھا جائے گا، اس وقت ذھنوں کو الجھانے کا نہیں ، تاریخی فیصلوں کا ہے تاریخ فیصلے جو کرتے ہیں وہ لیڈر کہلاتے ہیں اور کسی مسیحا سے کم درجہ نہیں رکھتے ہر غریب کی جھونپڑی میں پنپنے والے خاندان دونوں ہاتھوں سے دعائیں کریں گے اور اپنی نسلوں تک کو اس فیصلے کے بارے میں بتا کے جائیں گے اور وفاداری کا درس دے کے جائیں گے جیسے آج بھی ہم نے قومی زبان کو اپنے بزرگوں کے کہنے پر سینے سے لگائے رکھا ہے ۔ اور اپنے بچوں کو بھی کہتے ہیں کہ اردو میں بات کیا کریں یہ ایک وفاداری ہے جو خاندان سے خاندان چلتی آ رہی ہے۔

صوبہ سرائیکستان کا وجود میں آنا تمام کے لیے خوش آئند ہے چاہئے وہ صوبہ بلوچستان ہو ، صوبہ سندھ ہو ، صوبہ پنجاب ہو یا خیبرپختونخواہ ، زراعت ہر ملک میں بہت اہمیت رکھتی ہے اگر ملک میں زراعت دے وابستہ لوگوں کو حق دینے کی مخالفت کرتے رہیں گے تو ہم سب زراعت جیسے ایک وسیع خطے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جس کا ازالہ جو ہمیں دگنی چگنی لاگت ادا کر کے دوسرے ملکوں سے یہ اناج امپورٹ کرنا ہوگا اور اس پر جو لاگت آئے گی اس کو ہم اور آپ سب کیسے برداشت کریں گے ، ابھی موجودہ حالات میں جتنے قرض پوری قوم پر چڑھ چکے ہیں وہ ادا نہیں ہو پا رہے پھر دوسرے ملکوں سے ہم آلو ، چنا ، دالیں ، چاول ، گندم ، کپاس امپورٹ کر رہے ہوں گے ۔۔۔ خدارا ! صحیح سمت میں سوچ رکھیں اور یہ دیکھیں کہ واقعی ہی اس خطے کے لوگ صوبہ سرائیکستان کے حقدار ہیں ؟ ن لیگ کا کام تو لڑوانا ہے وہ بہاول پور کے رہائشیوں کو ، بحالی صوبہ جو کہ وہ آئینی حق رکھتے ہیں ایک صوبہ بنانے کی حمایت کرتے ہیں دوسری طرف ملتان پر مشتمل دوسرا صوبہ ، تاکہ سرائیکی قوم کیساتھ پھر سے بنگالہ دیش جیسا حال ہو ، ادھے سرائیکی ادھر اور آدھے اُدھر، یعنی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ، ایسا خدارا نہ کریں سرائیکی خطہ وسیع جغرافیہ پر مشتمل ہے اور ٢٣ اضلاع بشمل ٹانک ، ڈیرہ اسمعیل ملا کر ہی بننے کا حق رکھتا ہے ، ایک صوبہ ہوگا تو زراعت ایسے شعبے مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہونگے لوگوں میں خوشحالی آئے گی۔ سرائیکی خطے پر رہنے والے لوگ صوبہ سرائیکستان چاہتےہیں اور یہ بھی صوبہ سندھ ، بلوچستان ، صوبہ پنجاب، صوبہ خیبرپختوانخوا جیسا ہوگا جس میں ہر رنگ و نسل کو رہنے میں آزادی ہوگی اور اپنے بچوں کا رزق حاصل کر سکے گا۔

کہیں نہیں لکھا کہ کوئی سرائیکی سندھ میں زمین نہیں خرید سکتا، پنجاب میں زمین نہیں خرید سکتا ، بلوچستان میں زمین نہیں خرید سکتا ، خیبر پختونخواہ میں زمین نہیں خرید سکتا، جب سرائیکی ہر جگہ زمین خریدنے کا اختیار رکھتا تو قوم سے جڑا ہر فرد چاہے وہ پنجابی ہو ، بلوچ ہو ، سندھی ہو ، ھزارے وال ہو ، پٹھواری ہو ، کوئی بھی ہو ، وہ بھی حق رکھتا ہے اور خرید سکتا ہے ہم سب کا شناختی کارڈ پاکستان کا ہے ہم پاکستانی ہیں۔ محبت کا درس دیں معاملات کو خوش اسلوبی اور حقدار کو حق ملنے پر واویلہ مچانے کی بجائے زمینی حقائق دیکھیں اور ان کے بہتر حل کی بہتر رائے دیں ۔ ہمارے خطے سے جڑا کوئی فرد تعصب نہیں چاہتا اور نہ ہی کسی قسم کا فساد ، بس امن بھائی چارے اور محبت سے اپنے حق کی فریاد کرتا ہے اور اپنا حق ہی مانگ رہا ہے جس کا وہ حقدار ہے ، آپ کا حق آپ کے پاس ہے ۔ ہمیں ہر صوبے کی ترقی عزیز ہے اور تمام صوبوں میں رہنے والے قابل احترام ہیں، تو ہم بھی امید رکھتے ہیں کہ تمام سیاسی پارٹیاں چاہے وہ نیشنل ہوں یا شہری سطح پر ہوں ، پنجابی لوگ ہوں ، بلوچ ہوں ، سندھی ہوں یا پٹھان ، ہم بھی سب سے محبتوں کی امید رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ سب بھی اس کاز میں ساتھ کھڑے ہوں تاکہ کل اگر آپ بھی کسی چیز کا حق رکھتے ہیں تو اس خطے کے لوگ بھی اپنے ساتھ نبھائے گئے عہد کی پاسداری رکھیں اور کام آئیں۔

saraikinews

Website:

Related Story
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
شاہ سرمت حسین، سرائیکی شاعر
saraikinews Jun 5, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کے مشہور شاعر
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی ثقافت اور قوم
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
چین اور امریکا کی کرنسی
saraikinews Jun 4, 2023
khawaja ghulam farid
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
خواجہ غلام فرید: سرائیکی شاعر کا خزانہ
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
عمران خان: پاکستان کے نوے سولہویں وزیراعظم
saraikinews Jun 4, 2023
saraiki language,saraiki,history of saraiki,history of saraiki language,saraiki history,saraiki language history,what is history of saraiki language,history of saraiki language in urdu,saraiki poetry,saraiki people,saraiki culture,saraiki language history complete,history of sraiki language,exclusive history of saraiki language,story of saraiki language,history of saraiki people in hindi,first time complete history of saraiki language,saraiki funny
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کی تاریخ اور ارتقاء: ایک تفصیلی جائزہ
saraikinews Jun 4, 2023
تنویر قیصر شاہد مضامین
طیب ایردوان کی فتح اور جماعتِ اسلامی
saraikinews Jun 4, 2023
مضامین
چین اور روس مغرب کے خلاف نیا بلاک
saraikinews Jun 4, 2023
محمد اکرم چوہدری مضامین
عمران خان کے پاس کیا راستہ ہے؟؟؟؟
saraikinews May 31, 2023
وسعت اللہ خان
مضامین وسعت اللہ خان
بندہ مک سکتا ہے تمباکو نہیں
saraikinews May 31, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
دنیا پاکستان کو ختم کرنے کے درپر، اور ہم بدگمانیوں میں مصروف عمل
saraikinews Apr 20, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ایمان، ایٹمی طاقت اور سی پیک، جن کی کی تباھی کے لیے دنیا کھربوں ڈالر لگا سکتی ہے
saraikinews Apr 9, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ہمیں امریکا کیساتھ ہو کر کیا ملے گا؟
saraikinews Apr 3, 2022
سدرہ بتول مضامین
شب برات، بخشش دی رات، تحریر:سدرہ بتول
saraikinews Mar 17, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
محمد علی جناح دی فوٹو نوٹ تے چھپݨ تے کیا تھئیا؟
saraikinews Mar 15, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
اوسان باختہ تھئی گئے
saraikinews Jan 1, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
امیر ریاست کے غریب لوگ ۔۔۔
saraikinews Oct 22, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی شاعری میں نعت ، خورشید ربانی
saraikinews Aug 5, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
  صوبہ سرائیکستان باعث تکلیف و ازیت کا سامان… کیوں؟
saraikinews Jul 29, 2020
سرائیکستان
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ #سرائیکستان تعصب نہیں ملک کی ترقی کی نوید ہے
saraikinews Jul 17, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
لو کہ آج ہم نے خود ھار مان لی ۔۔۔
saraikinews Jul 3, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ اگر لسانیت ہیں تو آئیں تمام صوبے ختم کر کے ایک پاکستان بناتے ہیں
saraikinews Jul 2, 2020
سرائیکی فن پارے
مضامین مضمون
سرائیکی وسیب کی قدیم ’ثقافت‘ کو اجاگر کرتے فن پارے
saraikinews Jun 17, 2020
سرائیکی ثقافت
عمران ظفر بھٹی مضامین
پاکستان کی بہترین ثقافتوں میں سے ایک سرائیکی ثقافت
saraikinews Jun 17, 2020
کالا ہرن
مضامین مضمون
چولستان ڊا ”بزرگ“ جانور۔۔۔کالاہرن
saraikinews Jun 17, 2020
سرائیکی خطہ یا قلعہ غلاموں کا
فیصل شہزاد چغتائی
سرائیکی خطہ یا قلعہ غلاموں کا؟
Farzana Kousar May 19, 2020
saraiki soba
فیصل شہزاد چغتائی
سرائیکی صوبے کا وجود ہر قوم کے لیے ناگزیر ہے
saraikinews May 19, 2020
فدا حسین گاݙی مضامین مضمون
اسلامی جمعیت، مذہب، وسیب اَتیں تعلیم
saraikinews May 19, 2020
سعدیہ کمال مضامین مضمون
سرائیکی افسانے کی روایت۔ آغاز و ارتقا۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
بُݙدیاں کندھیاں، اُڄڑدیاں جھوکاں ۔۔۔۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
آدم شماری ۔۔۔ ہک کروڑ ٻاوی لکھ سرائیکیں دی اجتماعی قبر
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی صوبہ دا جغرافیہ اتے دریاویں دے پاݨی دی ونڈ
saraikinews May 19, 2020
پروفیسر اللہ ݙتہ مضامین مضمون
طلاق دینے کا احسن طریقہ
saraikinews May 17, 2020
اقبال زرقاش مضامین مضمون
    کیا منافع خور حکومت کی دسترس میں نہیں ؟
saraikinews May 8, 2020

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

YOU MAY HAVE MISSED
muzafarghar
مظفرگڑھ
مظفرڳڑھ: شوگر مل اچ بھاہ لڳݨ نال ݙو بندے جاں بحق تے ہک زخمی
saraikinews Jan 27, 2026
finance
اسلام آباد
ملکی معیشت مالی سال 2026 اچ ترقی دی رفتار برقرار رکھݨ کیتے موزوں پوزیشن اچ اے، ایں مہینے اچ مہنگائی 5 توں 6 فیصد دی حد اچ رہسی، وزارتِ خزانہ
saraikinews Jan 27, 2026
ali asif
اسلام آباد
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نال آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین دی ملاقات
saraikinews Jan 27, 2026
atta tarar
اسلام آباد
ضلع خیبر دے قبائل سیالے اچ نقل مکانی کریندے رہندن، کے پی حکومت دے ترجمان ایندے تے بے بنیاد بیان ݙیندن، عطاء اللہ تارڑ
saraikinews Jan 27, 2026

Copyright © 2026 | Powered by WordPress | Frankfurt News by ThemeArile

  • About us
  • About Us
  • Services
  • Privacy Policy
  • Careers
    • Portfolio
    • Support
  • DMCA
  • Join Us
  • Contact Us
  • FAQ