Skip to content
  • Thursday, 29 January 2026
  • 1:56 pm
  • Follow Us
saraikinews
  • صفحہ اول
  • قومی
    • کراچی
    • اسلام آباد
    • لاہور
  • دنیا
  • مضمون
    • فیصل شہزاد چغتائی
    • پروفیسر اللہ دتہ قادری
    • پروفیسر اللہ ݙتہ
    • شہزاد حسین بھٹی
  • ٹیکنالوجی
  • کھیڈ
  • شوبز
  • کاروبار
  • About us
    • Privacy Policy
    • Contact Us
    • DMCA
    • Join Us
  • رابطہ
  • Home
  • ایمان، ایٹمی طاقت اور سی پیک، جن کی کی تباھی کے لیے دنیا کھربوں ڈالر لگا سکتی ہے
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون

ایمان، ایٹمی طاقت اور سی پیک، جن کی کی تباھی کے لیے دنیا کھربوں ڈالر لگا سکتی ہے

saraikinews Apr 9, 2022 0

ایمان، ایٹمی طاقت اور سی پیک، جن کی کی تباھی کے لیے دنیا کھربوں ڈالر لگا سکتی ہے

تحریر: فیصل شہزاد چغتائی

ہمارا خداداد مملکت اسلامی ریاست ہے ایک مکمل فلاحی ملک جہاں ہر بلاتفریق تمام مذاھب ، زبانیں اپنا وجود رکھتی ہیں ۔ بھارت جیسے ملک سے الگ ہو کر اسلامی ریاست کو نقشے پر لے کر آنا بھارت کی حق تلفی نہ تھی اور نہ ہی بھارت سے اس ملک کو لیا، اس خطے پر برٹش حکومتوں کا وجود تھا جہاں انگریز رہے وہاں وہاں لوگوں کو غلامی کا نشئی بنا کر گئے ان کے جانے کے بعد بھی آج بھی ہم کہیں نہ کہیں ان کی زنجیروں میں جکڑے نظر آتے ہیں۔ جو نظام ہمیں ملا اپنا تھا سب برٹش حکومت سے ہجرت کر کے قانون میں آیا اور اب تک انہیں قونین کی پاسداری جاری و ساری ہے۔ ہر دور میں یہود و نصاری کی سازش رہی ہے کہ مسلم امت ، مسلمان یا مسلم ریاستیں کبھی پھل پھول نہ جائیں اور دین کا بول بالا نہ ہو ایک طویل مدت کے بعد یہ تمام لوگ اس طرح کا ماحول بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مسلمان ریاست کا وجود پاکستان کے نام سے بنا ١٩٤٧ سے لے کر آج تک تاریخ گواہ ہے جس نے ابھرنے کے کوشش کی اس کو کس طرح ایک کونے سے لگا دیا گیا۔ جس نے دین حق کی آواز اٹھائی اس کا وجود کبھی غدار ، کبھی ضمیر فروش جیسے لقب دیکر مٹاتے رہے۔ یہود و نصاری خوب جانتے ہیں کہ مسلمان پختہ ایمان کا مالک ہے۔ کچھ بھی ہو جب تک اس کا ایمان سلامت ہے اس وقت تک ہم کچھ نہیں کر سکتے۔
پہلی جنگ جو الیکٹرانک ڈیوائسز کے نام پر شروع کی، ٹی وی ، ڈش اور پھر ٹیکنالوجی اور اب ٹیکناوجی کے ذریعے ایمان تباہ و برباد کر دیئے گئے۔ عریانیت فحاشیت دنیا میں سب سے زیادہ گندی ویڈیو دیکھنے کے مرکز میں ایک آج ہمارا ملک ہے جس میں سب سے زیادہ یہ مواد دیکھا جا رہا ہے تو یہ سب پھیلایا گیا ، ٹی وی کے ذریعے ، ڈش کے ذریعے ہر گھر میں عریانیت کا درس دیا گیا، سکولوں میں انگریزی تہذیب زبان کو اہمیت دی گئی اور قومی زبان اردو اور مقامی زبانوں کا بڑے پیمانے پر رد کیا جاتا رہا۔ بچوں کو جو تعلیمی نظام ملا یہ نظام صرف اس لیے ترتیب دیاگیا تھا کہ یہاں کے لوگوں کو اور ان کے بچوں کو اپنی طرز کا تعلیمی نظام دیکر انہیں غلام بنایا جا سکے۔
آج معذرت کیساتھ اکثریتی پاکستانی میں پرائیویٹ سکول بچوں کو صرف انگریز کی ثقافت ، رہن سہن ، کلچر اور ان کی زبان پڑھا رہے ہیں اور ہر ادارے میں بچوں کے ذھن کو صرف نوکری (غلامی) تک ہی محدود رکھا گیا ہے اور اب تو بچوں میں سیکس کی تعلیمات بھی نصاب میں آہستہ آہستہ شامل ہوتی جا رہی ہیں ، لڑکے لڑکیوں کو ایک جگہ پر ایک ساتھ تعلیم حاصل کرنا اور اس ماحول کو دفتروں میں نوکریاں ایک ساتھ کرنے کے ساتھ منسوب کرنا گویا ، کام کرنے کی مشینیں بنایا جا رہی ہیں جن کا کام بھی یہود و نصاری کی غلامی کو تسلیم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا، آج بھی کسی پرائیویٹ اسکول کے بچے سے دین کے بارے کچھ پوچھ لیں تو انہیں محدود علم ہوگا کسی قومی ھیرو ، اسلامی ھیرو کے بارے میں سوال کر لیں تو لا علم ہونگے۔ وجہ وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ نوجوان نسلوں کی رگوں میں ڈالا گیا۔ آج ہر بچہ اپنے ہاتھ میں شیطانی ڈیوائس موبائل کو کمزوری بنا چکا ہے جو کہ بچے کو عریانیت فحاشیت اور فضولیات کا درس دے رہی ہے ان تمام کوششوں میں بلآخر یہودو نصاری کامیاب ہو گئے اور نوجوانوں کا آخر ایمان کمزور کر دیا۔ کامل مسلمان وہی رہ گئے جنہیں گھروں میں دین قرآن و سنت کی تعلیمات ماں کی جھولی سے ملیں۔ مدارس سے ملیں ۔ باقی تو آلہ کار بن چکے۔ پہلی جنگ ایمان کی جو ہم ھار چکے۔ شاید اب بھی ہمیں عقل آ جائے یا اللہ رب العزت کوئی ھدایت کا سلسلہ بنا دے دل بدل جائیں اور راہ حق پر آ جائیں اور اپنا ایمان مضبوط کر لیں جس سے کافر ڈرتا ہے اور جانتا ہے کہ اگر مسلمان میں کچھ سب سے زیادہ خطرناک چیز ہے تو وہ ایمان ہے۔
وہ ایمان کی طاقت ہی تھی جس نے ایسے ایسے محسن اس زمین پر پیدا کیے جن کے وجود کی اور خدمات کی بدولت آج ہم الحمداللہ دنیا کی اسلامی ایٹمی طاقت رکھتے ہیں اور پہچانے جاتے ہیں۔ دفاعی معاملات میں شاید ہی ایسی عسکری قوت کسی ملک کے پاس ہو جیسی ہماری عسکری طاقت ہیں جو ہر وقت ملک کے دفاع کے لیے چاک و چوبند رہتی ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد دنیا کو پاکستان کو وجود چبنے لگا کہ آخیر کیسے یہ ایک مسلم ریاست ایٹمی ملک بن گیا۔ ہمارے ملک کے بارے اگر ایسا کہا جائے کہ ہمیں دشمنوں کی ضرورت نہیں تو ایسا غلط نہ ہوگا کیونکہ ہم اپنے دشمن بغل میں رکھتے ہیں جو ہر وقت تاک لگائے بیٹھےہیں کہ کب حالات بگڑیں اور کب ہم حملہ کریں۔ ایٹمی پاور بننے کا سب سے بڑا نقصان ایسے ممالک کو ہو سکتا ہے جو پہلے سے ایٹمی پاور ہوں اور وجود رکھتے ہوں جس میں امریکا سرفہرست ہے جو نہیں چاہتا کہ اس کے علاوہ بھی دنیا میں کوئی ملک ایٹمی یا جوہری توانائی کا حامل ہو اور اہمیت رکھتا ہو اور وہ مسلمان ملک ہو۔ مسلمانوں کو تو یورپی ممالک ہوں ، امریکا ہو ان ممالک میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر دوسری طرف اس خطے پر پیدا ہونے والا ہر ٹیلنٹ ، ہنرمند ، نوجوان کو اچھی تنخواہوں کا جھانسہ دے کر اپنے ملکوں میں بلا لیا جاتا ہے اور پھر یہ خریدا جانے والا فرد استعمال ہوتا ہے اس وقت تک جب وہ ختم نہیں ہو جاتا اور جب وہ ختم ہو جاتا ہے تو اس ٹیلینٹ ، یعنی ھنر مند فرد کا نام و نشان ختم ہو جاتا ہے نہ ہی تاریخ میں کہیں اس کا تذکرہ رہتا ہے اور نہ ہی کوئی یاد کرتا ہے۔
١٩٤٧ کے بعد آج ٢٠٢٢ میں جب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوا تجارت کے لیے نئے دروازے کھولے تو دوست ممالک جو سب سے قریبی تھا چین اس نے لبیک کہا جس پر بلوچستان جو قدرتی طور پر گرم ساحل رکھتا ہے اور گہرا ہے پر ایک تجارتی مرکز بنانے کی ٹھان لی اور آخر سی پیک کے نام سے ایک پراجیکٹ دنیا میں متعارف کروا دیا اور دنیا کی انڈسٹری کو انویسٹمنٹ کے لیے مدعو کرنا شروع کر دیا ۔ بیشک یہ ایسا پراجیکٹ ہے جس کے ساتھ چین کو پوری دنیا کی تجارتی منڈی میں اپنے سامان فروخت کرنے کے لیے کم خرچ میں راھداری ملی اور اپنی انڈسٹریاں پاکستان میں لگانے کا موقع ملا۔ جو دنیا کو ناگوار گزارا خوصا” ایسے ممالک کو جو تجارت پر پنجے گاڑے ہوئے تھے جہاں امریکا سپر پاور بننے کے بعد اپنا ون آرڈر دنیا پر مسلط کرنے کے پلاننگ کر رہا تھا وہاں اس منصوبے نے پانی پھیر کر رکھ دیا۔
یہ وہ رنجشیں ہیں جو سالوں سے چلی آ رہی ہیں اس رنجشوں کی بنیاد پر پابندیاں لگیں کبھی ایٹمی تجربہ کرنے پر ، کبھی دہشت گردی کے نام پر پاکستان کو بدنام کر دیا گیا، جس میں ہمسائیے ملک بھارت کا اہم کردار رہا اس کے ملک میں جب بھی پٹاخہ پھٹا تو اس کا الارم شروع ہو جاتا ہے جو میڈیا کے ذریعے پاکستان کو دہشت گرد کی تربیت گاہ اور دہشت گرد قرار دینے لگ جاتا ہے اور پوری دنیا میں اس نے پاکستان کو کبھی طالبان سے مشروط رکھا اور کبھی بارڈر کی خلاف ورزیاں کرتا رہا اور کبھی پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیتا رھا۔ جس سے اسے دنیا میں سنا گیا اور ہر فورم پر اس کو اہمیت دی گئی۔ دنیا میں فرضی امن کا درس دینے والے ممالک امریکا نے امن امن کے نام پر پاکستان کو ماضی میں بھی استعمال کیا اور بھارت نے جو پاکستان کو دنیا میں گندا کیا اس گند کو صاف کرنے کے لیے اس وقت کے نادان سیاست دانوں نے لبیک کہا اور امریکا کو مائی باپ مانتے ہوئے ھاں میں ھاں ملاتے گئے اور پاک سر زمین کو نیٹو کی فوج کے لیے راہداری فراہم کی گئی جس کا نقصان قوم نے دھماکوں ، ڈرون حملوں سے اٹھایا۔ اب جب افواج کی انتھک محنت اور جدوجہد اور آپریشنز کے بعد امن کی راہ کھلی تو یہ امن چب گیا کیونکہ اس وقت Do More کو No More کہہ دیا گیا۔ کہ اب مزید یہ سر زمین کسی کی جنگ کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ ہماری افواج ملک کے دفاع کے لیے استعمال ہوگی ۔
یہ وہ تین بنیادی چیزیں ہیں جو ہمارے ملک میں موجودہ صورتحال کو پیدا کر چکی ہیں ایمان تو پہلے سے کمزور کر دیئے گئے ۔ طاقت ختم کرنے کے لیے کب سے جدوجہد کی جا رہی ہے اور سی پیک پراجیکٹ جس کا دنیا میں طوطی بولنے لگا ہے تو اسے تباہ کرنے کے در پر ہیں کیونکہ اگر چین عالمی منڈی تک اپنی پراڈکٹ پہنچا دیتا ہے تو انٹرنیشنل مارکیٹ میں فروخت ہونے والے اشیاء کی خرید بہت کم ہو جائے گی جس سے امریکن انڈسٹری جو در حقیقت یہودی تاجروں کی بدولت چل رہی ہے اس کا دوالیہ نکل جائے گا اس لیے اس پراجیکٹ کو ھر حال میں بند کرنا لازمی ہے جس پر امریکا کھروبوں لٹانے کے در پر ہے وجہ امریکا کو پوری دنیا میں ایک آرڈر مسلط کرنے کا خواب ہے جہاں دنیا سے تمام بینک ختم کر کے ایک کرنسی مسلط کرنا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے نام پر دنیا ایک آن لائن سسٹم میں ضم ہو جائے اور تمام ٹرانسیکشن بزنس کاروبار آن لائن ہو جائیں ان ٹرانسیکشن کی سٹوریج کا سروس ڈیٹا سنٹر سپر پاور ، امریکا کے پاس رہے اور وہ جب چاہے کسی بھی ملک کی ڈور کھینچ کر اسے اپنی غلامی کی زنجیر پہنا دے اور اپنا من چاہا کام لے سکے اور دنیا پر حکومت کر سکے۔
تحریک انصاف عوامی ووٹ کے زور پر ابھر کر سامنے آئے اور اس نے ان تمام پوانٹ پر کام شروع کیا ایمان تازہ کرنے کی کوشش کی ، ایٹمی پاور ہونے کا دنیا کو دھرلے سے بتایا اور absolutely notکہا جو مزید تکلیف دہ گزرا ایک دو سی پیک کا درد تھا ہی اوپر سے اس لفظ نے ان زمینی خداوں کی شان میں گستاخی کر دی۔ وہ بیشک خاکے بنانے اور گستاخیاں کرنے میں لگے رہیں اس پر اگر آواز اٹھائیں تو انہیں چبھ جائے ۔ جو ماضی میں غلطیاں سیاست دانوں نے ھاں میں ھاں ملا کر کرتے رہے تو امریکا کو بھی نو سننے کی کبھی توقع نہیں تھی اسے بس یس چاہئے تھا ہر ملک سے ۔ ایک طرف روس کو رول بیک کرنے کے لیے نیٹو کو یوکرین کی دیوار پر بیٹھانے کی کوشش کی دوسری طرف چائنہ کو اپنے ملک تک محدود کرنی کی کوشش کر رہا ہے۔ یوکرین کا حال تو دنیا کے سامنے ہے اب چائنہ جو کہ پاکستان کیساتھ کورونا میں ساتھ کھڑا رہا ہے جب دنیا اس موذی مرض سے لڑ رہی تھی تو واحد چائنہ ایسا مخلص دوست ثابت ہوا جس نے ساتھ دیا اور مزید انویسٹمنٹ پاکستان میں لایا ، اب اگر چائنہ کو رول بیک کر کے گھر تک محدود کیا جاتا ہے تو اس صورت میں راھداری معاھدہ ختم ہونے کا خطرہ ابھر سکتا ہے اور سی پیک جیسا پراجیکٹ بڑے پیمانے پر متاثر ہو سکتا ہے اس کی ناکامی کے لیے جتنے بھی ہتھکنڈے اور خریدوفرخت کی جا رہی ہے سب صرف اور صرف اس پراجیکٹ کو خطے سے ختم کرنے کے لیے ہے جس کا فوائدہ صرف اور صرف امریکا کو ہے تو ظاہر ہے اب وہ ہر ممکن کوشش کرے گا کا چاہے کھروبوں ڈار لگیں ، عربوں لگیں پاکستان کے اس پراجیکٹ کو تباہ کرنا ہے تاکہ تجارتی منڈی میں صرف اس کا وجود رہ سکے جس میں بھارت دم ھلانے میں پہل پہل ہے۔ جو سازشیں بھارت امریکا کیساتھ ملک کر کر رہا ہے اس وہ ماضی میں صاف نظر آتا رہا ہے۔ اب حال میں بھی آبدوز کا بھیجنا ، میزائل پاکستان میں مارنا پھر ھیلے بھانے کرنا کہ جی غلطی سے آ گیا تو یہ سب کچھ امریکا کےا شارے پر ہو رہا ہے۔
اب ایک طرف تو ہمارا ازلی دشمن بھارت جو کسی صورت پاکستان کو ہرا بھرا نہیں دیکھنا چاہتا وہ در پر ہے اور دوسری طرف برائے فروخت سیاسی کالی بھیڑییں اور ایسے ادارے جو حاضر حاضر کی سدا لگائے بیٹھے ہیں کہ کہیں سے تو مال آئے تو ایسی صورت میں جب عدالتوںنے بھی موجودہ جمہوری حکومت کو مفلوچ کر کے رکھ دیا ہے اس کا نقصان بہت بڑے دائرے پر ہو سکتا ہے جو عناصر اس وقت پاکستان کی باگ دوڑ کی تگ دو میں ہیں یہی وہی لوگ ہیں جو ماضی میں بہت بری طرح سے مسترد کیے گئے عوام کی طرف سے اور آج جب عوام نے ان کا رد کیا تو یہ لوگ اسمبلی میں موجودہ جمہوریت کو بلیک میل کر کے اپنی بادشاہت کا تختہ اپنی زمینی خداووں امریکا کو راضی رکھنے کے لیے جمانے کے خواہشمند ہیں۔ جس میں جو بظاہر نظر آتا ہے تمام سیاسی ٹولے اور ادارے بھی ساتھ ہیں ساتھ ہیں ایسے کیسے ممکن ہے کہ ایک ملک کو ترقی کی راہ پر لے آنے والی اتنی کامیاب حکومت جس کی اپنی آزاد فارن پالیسی ہی اس کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ اسے ختم کرنا ملک کو ایک بار پھر زوال کے کنویں میں دھکیل دینا کے مترادف ہے۔ جو جدوجہد ماضی میں ملک کے اداروں کی خرید و فروخت کی ہوتی رہی کچھ ادارے فروخت ہو گئے کچھ رہ گئے تو اگر وہ بھی فروخت ہو جاتے ہیں تو پاکستان میں رہ کیا جائے گا؟
آج اگر حق کا ساتھ نہیں دیتے اور اتنے سمجھ نہیں رکھتے کہ کون ملک و قوم کے حق میں ہے اور کس سے ملک کو فوائدہ ہو سکتا ہے کون ملک پاکستان کی شان و شوکت کو قائم رکھے ہوئے ہے دنیا میں آج جس طرح پاکستان کا نام عروج پر ہے اس طرح اس کو تباہ کرنے والوں کی نظروں میں کھٹک رہا ہے اسوقت بے وقوفیوں کی نہیں عقلمندی کے مظاہرے کی ضرورت ہے جو لوگ امریکا کی کٹ پتلیاں بنے ہوئے ہیں عقل کے ناخون لیں۔ جس طرح کے ملک کے اندرونی حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں یہ ملک و قوم کے لیے خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے آنے والے نسلوں کو کیا درس دیں گے کہ جن پر ماضی میں کرپشن کے کیس چلے مل چھوڑ کر بیماریوں کے بہانے علاج کرنے گئے اور واپسی نہ آئے وہ پھر اعلی عدلیہ کے ذریعے وہ کرپٹ ٹولہ پھر پاکستان پر مسلط کر دیا گیا۔ یاد رکھیں اگر ایسا ہوتا ہے یا ہوگا تو اس صورت میں ہم سب گنہگار ہوں گے آنے والے نسلوں کہ ہم سب کی آنکھوں کے سامنے یہ ہوتا رہا اور ہم خاموش تماشائی بنے رہے۔

اللہ رب العزت ہمارے ملک کو حفظ و امان میں رکھے اور دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رکھے ملکی سالمیت، ترقی و فلاح کے لیے کوئی شہ اہمیت نہیں رکھتی۔ خدارا کسی کے ہاتھ استعمال ہونے کی بجائے ایک ہو کر دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور ملک کی ترقی میں ہم پلہ ہوں اور ایک نئی ریت پیدا کریں۔

saraikinews

Website:

Related Story
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
شاہ سرمت حسین، سرائیکی شاعر
saraikinews Jun 5, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کے مشہور شاعر
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی ثقافت اور قوم
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
چین اور امریکا کی کرنسی
saraikinews Jun 4, 2023
khawaja ghulam farid
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
خواجہ غلام فرید: سرائیکی شاعر کا خزانہ
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
عمران خان: پاکستان کے نوے سولہویں وزیراعظم
saraikinews Jun 4, 2023
saraiki language,saraiki,history of saraiki,history of saraiki language,saraiki history,saraiki language history,what is history of saraiki language,history of saraiki language in urdu,saraiki poetry,saraiki people,saraiki culture,saraiki language history complete,history of sraiki language,exclusive history of saraiki language,story of saraiki language,history of saraiki people in hindi,first time complete history of saraiki language,saraiki funny
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کی تاریخ اور ارتقاء: ایک تفصیلی جائزہ
saraikinews Jun 4, 2023
تنویر قیصر شاہد مضامین
طیب ایردوان کی فتح اور جماعتِ اسلامی
saraikinews Jun 4, 2023
مضامین
چین اور روس مغرب کے خلاف نیا بلاک
saraikinews Jun 4, 2023
محمد اکرم چوہدری مضامین
عمران خان کے پاس کیا راستہ ہے؟؟؟؟
saraikinews May 31, 2023
وسعت اللہ خان
مضامین وسعت اللہ خان
بندہ مک سکتا ہے تمباکو نہیں
saraikinews May 31, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
دنیا پاکستان کو ختم کرنے کے درپر، اور ہم بدگمانیوں میں مصروف عمل
saraikinews Apr 20, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ہمیں امریکا کیساتھ ہو کر کیا ملے گا؟
saraikinews Apr 3, 2022
سدرہ بتول مضامین
شب برات، بخشش دی رات، تحریر:سدرہ بتول
saraikinews Mar 17, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
محمد علی جناح دی فوٹو نوٹ تے چھپݨ تے کیا تھئیا؟
saraikinews Mar 15, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
اوسان باختہ تھئی گئے
saraikinews Jan 1, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
امیر ریاست کے غریب لوگ ۔۔۔
saraikinews Oct 22, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی شاعری میں نعت ، خورشید ربانی
saraikinews Aug 5, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
  صوبہ سرائیکستان باعث تکلیف و ازیت کا سامان… کیوں؟
saraikinews Jul 29, 2020
سرائیکستان
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ #سرائیکستان تعصب نہیں ملک کی ترقی کی نوید ہے
saraikinews Jul 17, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
لو کہ آج ہم نے خود ھار مان لی ۔۔۔
saraikinews Jul 3, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ اگر لسانیت ہیں تو آئیں تمام صوبے ختم کر کے ایک پاکستان بناتے ہیں
saraikinews Jul 2, 2020
سرائیکی فن پارے
مضامین مضمون
سرائیکی وسیب کی قدیم ’ثقافت‘ کو اجاگر کرتے فن پارے
saraikinews Jun 17, 2020
سرائیکی ثقافت
عمران ظفر بھٹی مضامین
پاکستان کی بہترین ثقافتوں میں سے ایک سرائیکی ثقافت
saraikinews Jun 17, 2020
کالا ہرن
مضامین مضمون
چولستان ڊا ”بزرگ“ جانور۔۔۔کالاہرن
saraikinews Jun 17, 2020
سرائیکی خطہ یا قلعہ غلاموں کا
فیصل شہزاد چغتائی
سرائیکی خطہ یا قلعہ غلاموں کا؟
Farzana Kousar May 19, 2020
saraiki soba
فیصل شہزاد چغتائی
سرائیکی صوبے کا وجود ہر قوم کے لیے ناگزیر ہے
saraikinews May 19, 2020
فدا حسین گاݙی مضامین مضمون
اسلامی جمعیت، مذہب، وسیب اَتیں تعلیم
saraikinews May 19, 2020
سعدیہ کمال مضامین مضمون
سرائیکی افسانے کی روایت۔ آغاز و ارتقا۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
بُݙدیاں کندھیاں، اُڄڑدیاں جھوکاں ۔۔۔۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
آدم شماری ۔۔۔ ہک کروڑ ٻاوی لکھ سرائیکیں دی اجتماعی قبر
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی صوبہ دا جغرافیہ اتے دریاویں دے پاݨی دی ونڈ
saraikinews May 19, 2020
پروفیسر اللہ ݙتہ مضامین مضمون
طلاق دینے کا احسن طریقہ
saraikinews May 17, 2020
اقبال زرقاش مضامین مضمون
    کیا منافع خور حکومت کی دسترس میں نہیں ؟
saraikinews May 8, 2020
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
   غریبی جرم ہے ایسا کہ دیکھ کر مجھ کو
saraikinews May 8, 2020

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

YOU MAY HAVE MISSED
muzafarghar
مظفرگڑھ
مظفرڳڑھ: شوگر مل اچ بھاہ لڳݨ نال ݙو بندے جاں بحق تے ہک زخمی
saraikinews Jan 27, 2026
finance
اسلام آباد
ملکی معیشت مالی سال 2026 اچ ترقی دی رفتار برقرار رکھݨ کیتے موزوں پوزیشن اچ اے، ایں مہینے اچ مہنگائی 5 توں 6 فیصد دی حد اچ رہسی، وزارتِ خزانہ
saraikinews Jan 27, 2026
ali asif
اسلام آباد
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نال آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین دی ملاقات
saraikinews Jan 27, 2026
atta tarar
اسلام آباد
ضلع خیبر دے قبائل سیالے اچ نقل مکانی کریندے رہندن، کے پی حکومت دے ترجمان ایندے تے بے بنیاد بیان ݙیندن، عطاء اللہ تارڑ
saraikinews Jan 27, 2026

Copyright © 2026 | Powered by WordPress | Frankfurt News by ThemeArile

  • About us
  • About Us
  • Services
  • Privacy Policy
  • Careers
    • Portfolio
    • Support
  • DMCA
  • Join Us
  • Contact Us
  • FAQ