Skip to content
  • Saturday, 7 February 2026
  • 1:27 am
  • Follow Us
saraikinews
  • صفحہ اول
  • قومی
    • کراچی
    • اسلام آباد
    • لاہور
  • دنیا
  • مضمون
    • فیصل شہزاد چغتائی
    • پروفیسر اللہ دتہ قادری
    • پروفیسر اللہ ݙتہ
    • شہزاد حسین بھٹی
  • ٹیکنالوجی
  • کھیڈ
  • شوبز
  • کاروبار
  • About us
    • Privacy Policy
    • Contact Us
    • DMCA
    • Join Us
  • رابطہ
  • Home
  • تحریکیں ہمیشہ کسی بھی مخصوص خطے پر رہنے والوں کے مفادات کے لیے آواز اٹھانے کے لیے ہوتی ہیں
تجزیات فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون

تحریکیں ہمیشہ کسی بھی مخصوص خطے پر رہنے والوں کے مفادات کے لیے آواز اٹھانے کے لیے ہوتی ہیں

saraikinews Dec 31, 2016 0
آواز سرائیکی

تحریکیں ہمیشہ کسی بھی مخصوص خطے پر رہنے والوں کے مفادات کے لیے آواز اٹھانے کے لیے ہوتی ہیں تاکہ اس خطے کی آواز اعلی حکام تک پہنچائی جائے مگر جو تحریکیں میں وادیِ سندھ کے خطے میں دیکھ رہا ہوں یہ ذاتی مفادات کی زیر نظر ، نظر آتی ہیں ہر فارغ رہنے والا شخص کاٹن کا سوٹ پہن کر وادی سندھ کے سرائیکی خطے (سرائیکستان) کی آواز بلند کرنے کے لیے نکل پڑتا ہے زیادہ عرصے کی بات نہیں چند سالوں کی بات ہے جب جب یہ سرائیکی خطہ کسی مشکل میں پڑتا ہے تو یہ سب لیڈر شپ کا دعوی کرنے والے حضرات ایسے غائب ہو جاتے ھیں جیسے گدھے کے سر سے سینگھ ۔۔۔۔

تحریک بلا مقصد و انا ہوتی ہے اور ہر وادی سندھ کے سرائیکی خطے سے جڑی ہر شہ سے محبت کا ثبوت دیتی ہے اس خطے پر بسنے والے ہر فرد اور ہر شخص سے محبت رکھتی ہے ایسی تحریک ھرگز فائدے کے نظر نہیں ہو سکتی جو خطے میں اپنے جلسوں ، تقریروں اور الفاظوں سے انتشار پہلائے ۔ برصغیر میں وادی سندھ پر سرائیکی خطہ ایک وجود کا حامل تھا اور دریاں کے قریب آباد رہنے والے سبھ لوگ اس خطے کا وجود تھے اور اپنی تہذیب و ثقافت کے پاسبان تھے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سبھ سے پہلے پاکستان کا وجود تسلیم کیا اور ہجرت کر کے آنے والے ہزاروں مسلمانوں کو سینوں سے لگایا صرف اور صرف مسلمان کی بنیادپر ان میں اردو بھی تھے بنگالی بھی تھے اور پنجابی بھی تھے کیونکہ غلط تقسیم کی ریاست راجستان بھارت میں ہی رہ گئی لیکن اس ریاست سے جڑے کچھ شہر پاکستان کا حصہ بنے اور سرائیکی خطے کیساتھ ساتھ اور راجھستان اور سرائیکستان کے درمیانی جو شہر آئے ان میں آج بھی ان سب کو اہمیت کاحامل رکھا گیا اور چاہے جس بھی زبان سے منسلک خاندان اس خطے میں آ کر آباد ہوا یہاں کے لوگوں نے اپنی محبت اور ملنساری کا ثبوت دیا اور انہیں اپنا حصہ سمجھا لیکن ! تفریق رکھی گئی اور رکھی جا رہی ھے ۔۔۔۔۔ آزادی کی تحریک سے لے کر اب تک سرائیکی خطے پر آباد مسلمان جو اپنی تہذیب کے مالک تھے اور اپنی زبان و لجہہ سے منسلک تھے ان کی ثقافت کو اور ان کی زبان کوں ھجرت کر کے آباد ہونے والوں نے اپنی زبان کا حصہ بنانے کی کوشش کیں اور وادی سندھ کے سرائیکی خطے پر قائم بہت سے شہروں کا نام پنجاب سے تفویض کر دیا گیا لیکن پھر بھی صابر سرائیکی (وادی سندھ۔ سرائیکی خطے پر آباد لوگوں کو سرائیکی کہا جاتا ہے ماضی میں بھی اور آج بھی یہ اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں) کہ انہوں نے اس نام کو تسلیم کیا گویا آج یہ خطہ بہت حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اس خطے کے تعلیمی اداروں، تھانوں ، گورنمنٹ کے اداروں، اور تجارتی مراکز پر قبضہ کرنے کے بعد اس خطےکر مزید سرائیکستان بننے کئ بجائے مسائلستان بنا دیا گیا تاکہ نا ھی اس خطے کے لوگ معاشی طور پر مستحکم ہوں اور نہ ھی ان کا وجود رہے اور وقت کی تیز رفتار انہیں روندتی چلی جائے۔

آج یہ سرائیکی خطے جس کے بہت سے شہروں کو پنجاب کا ٹائٹل دے دیا گیا ہے اور باقی بچ جانے والا سرائیکی خطے کی عوام اگر اس کا نام سرائیکستان رکھنا چاہتی ھے تو اسے تسلیم کرنے میں وللہ عالم ایسی کونسی تکلیف ہے اور اس کو لسانیت کا نام دیا جا رہا ھے۔ سرائیکی خطے کو پنجاب کا نام دینا لسانیت نہیں ؟ آج پوری دنیا میں پنجابی زبان سے منسلک افراد اس پنجاب کو پنجابی زبان بولنے والوں کی زمین بولتے ہیں کیا یہ لسانیت نہیں ؟ اگر سرائیکی خطے پر آباد لوگوں نے سب کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور سب کو عزت دی تو اس کے جواب میں سالوں کی نا انصافیاں کیا زیب دیتی ہیں ؟ کیا اپنے محسنوں کی آواز کو یہ کہہ کر کچلا جاتا ہے کہ یہ تو انڈیا کے ایجنٹ ہیں؟ معذرت کیساتھ آپ کے خاندانوں کے خاندان ابھی بھی انڈیا میں آباد ہیں اور آپ کی اب بھی ان سے مراسم ہیں تو کسی سرائیکی ایک فرد نے بھی پنجاب یا پنجابی کو کسی بھارتی ایجنسی کا ایجنٹ کہا ؟ نہیں ! کیونکہ سرائیکی خطے پر آباد ان لوگوں نے وفا کرنا سیکھی اور اپنے بزرگوں سے اچھے اصول سیکھے اور صبر کا دامن تھامے رہنا سیکھا جس کی مثال آج بھی زندہ ملتی ہے، سرائیکی خطے جو باقی رہ گیا ہے اس میں نا توں سڑکیں ہیں نا ھی بجلی کا پرسان حل ہے اور بہت سے علاقے تو آج بھی گیس سے مفلوج ہیں لکڑیاں چن کر اپنے بچوں کے لئتے کھانا پکاتے ہیں۔ ان کے بچے پڑھنے نہیں جاتے وہ جیسے بڑے ہوتے ہیں اپنے ماں باپ کیساتھ کاشت کاری میں مدد کرتے ہیں اور نا ھی ان لوگوں کے پاس تعلیم ہے ، نہ ہی معاشی طور پر مستحکم ہیں اور مشکل آنےپر انصاف کے دروازے بھی ان پر بند ہیں، انہیں پوری ملک میں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرئ جانب جو سرائیکی خاندان یا ان کے بچے پڑھ گئے ہیں وہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ملک سے باہر رہنے والے سرائیکی محنت مزدوری کر کے ہر ماہ کروڑوں روپے پاکستان بھیجتے ہیں۔ اور پاکستان میں رہنے والے سرائیکی مزدوری ، چوکیداری، ہیلپری ، ٹھیکیداری ، فیکٹری میں انچارج یا لیبر ملتے ہیں جو در حقیقت ملک کی ترقی میں اپنا خون پسینہ لگا رہے ہیں ۔ بر ہا افسوس کہ کسی حق کی آواز اٹھانے والوں کو غداروں کیساتھ منسلک کرنے کی سازشوں کا سلسلہ جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔

سرائیکی تحریکیں چلانے والوں کو اپنے مفادات کو علیحدہ رکھتے ہوئے مخلص ہو کر حقیقی معنوں میں اس خطے پر آباد سرائیکیوں کے دکھ درد کم کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ریلیاں جلسےجلوس سب پرانی باتیں ہیں چاہے وہ بھٹو کا دور ہو بی بی کا ہو نواز کا ہو یا کسی حکمران کا بھی دور ہو یہ سب ایسے ہی ہے کہ عوام کو لالی پاپ دیکھا کر خوش کر دیاجائے آج تک اس خطے کی محرومیوں کے لیے کسی نے در حقیقت کام ہی نہیں کیا جہاں کام کرنے کی ضرورت ہے وہاں بچوں کے پڑھنے کے لیے نہ تو کتابیں ہیں نہ ہی اسکول ہیں اور نہ ہی بیٹھنے کے لئے اسکول میں کرسیاں ہیں کسی درخت کے سائے کے نیچے اگر کوئی استاد پڑھانے کی کوشش کرتا بھی ہے تو اسے سیاسی اثر و رسوخ کیساتھ منع کر دیا جاتا ہے یا وہ آواز جواستاد کی ہوتی ہے خاموش ہو جاتی ہے۔ ہم جھنڈے ، جلسے ، چاول دیگیں بانٹنے میں لاکھوں لگا دیتے ہیں لیکن ذرا یہ سوچیں اگر یہ سب تحریکیں مل کر معاشی طور پر ہر گھر کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں تو کیا یہ خطے ترقی نہیں کر سکتا جس کی عوام کی محنت دبئی جیسے شہر ملتے ہیں کراچی ، لاہور ، اسلام آباد میں بلند و بالا عمارتیں ملتی ہیں وہ عوام اسی سرائیکی خطے کے فرد ہیں وہ دنوں میں اس خطے کو سونا بنا سکتے ہیں اور تعصبات کی ہوا دینے والی تحریکیں نہ ہی خطے کی حامی ہیں اور نہ ہی وہ خطے کو مفاد دے سکتی ہیں وہ صرف اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں ایسے تحریکیں وادی سندھ کے سرائیکی خطے کی نا تو وارث ہیں اور نہ ہی ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق ہے وہ صرف اور صرف اپنی دکانداری چمکانے کے لیے رات دن کوشاں ہیں۔ اگر کوئی مخلص تحریک بچتی بھی ہے تو وہ اپنی پالیسیاں ، منشور تبدیل کرے ضرورت اس وقت نسلوں کو اعلی تعلیم دینے کی ہے اور اپنے خطے کو حقیقی خطے بنانے کی ہے۔ باتیں سب تحریک کے لیڈران کرتے ہیں جو در حقیقت میری نظر میں لیڈر نہیں لیڈر وہ ہتا ہے جو درد وسیب رکھے اور اس درد کو مٹانے کے لیے دن رات ایک کر دے ناکہ اپنی مشہوری کے لیے لاکھوں روپے ایڈورٹائزمنٹ اور دفاتر اور ریلیوں جلوسوں میں نکال دے ۔

کسی مظلوم کے لیے آواز اٹھانا جہاد ہے اور یہ وہ مظلوم ہیں جنہیں پتہ ہی نہیں کہ تعلیم ہوتی کیا ہے ان کی زندگی اتنی ہے کہ صبح سے شام کھیتوں میں کاشتکاری کرنی ہے اور فصل کا انتظار کرنا ہے ۔۔ اور ہر فصل اچھی ہونے کے لیے اللہ سے دعا کرنی ہے۔ اس سارے معاملے میں کہیں بھی نا سیاست ملتی ہے اور نہ ہی کوئی تحریک ملتی ہے تقوی اور ایمان رکھنے والے لوگوں پر یہاں کے لوگوں کی اتنی آزمائشیں زیادتی ہیں۔


سرائیکی قوم
saraikinews

Website:

Related Story
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
شاہ سرمت حسین، سرائیکی شاعر
saraikinews Jun 5, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کے مشہور شاعر
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی ثقافت اور قوم
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
چین اور امریکا کی کرنسی
saraikinews Jun 4, 2023
khawaja ghulam farid
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
خواجہ غلام فرید: سرائیکی شاعر کا خزانہ
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
عمران خان: پاکستان کے نوے سولہویں وزیراعظم
saraikinews Jun 4, 2023
saraiki language,saraiki,history of saraiki,history of saraiki language,saraiki history,saraiki language history,what is history of saraiki language,history of saraiki language in urdu,saraiki poetry,saraiki people,saraiki culture,saraiki language history complete,history of sraiki language,exclusive history of saraiki language,story of saraiki language,history of saraiki people in hindi,first time complete history of saraiki language,saraiki funny
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کی تاریخ اور ارتقاء: ایک تفصیلی جائزہ
saraikinews Jun 4, 2023
تنویر قیصر شاہد مضامین
طیب ایردوان کی فتح اور جماعتِ اسلامی
saraikinews Jun 4, 2023
مضامین
چین اور روس مغرب کے خلاف نیا بلاک
saraikinews Jun 4, 2023
محمد اکرم چوہدری مضامین
عمران خان کے پاس کیا راستہ ہے؟؟؟؟
saraikinews May 31, 2023
وسعت اللہ خان
مضامین وسعت اللہ خان
بندہ مک سکتا ہے تمباکو نہیں
saraikinews May 31, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
دنیا پاکستان کو ختم کرنے کے درپر، اور ہم بدگمانیوں میں مصروف عمل
saraikinews Apr 20, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ایمان، ایٹمی طاقت اور سی پیک، جن کی کی تباھی کے لیے دنیا کھربوں ڈالر لگا سکتی ہے
saraikinews Apr 9, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ہمیں امریکا کیساتھ ہو کر کیا ملے گا؟
saraikinews Apr 3, 2022
سدرہ بتول مضامین
شب برات، بخشش دی رات، تحریر:سدرہ بتول
saraikinews Mar 17, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
محمد علی جناح دی فوٹو نوٹ تے چھپݨ تے کیا تھئیا؟
saraikinews Mar 15, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
اوسان باختہ تھئی گئے
saraikinews Jan 1, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
امیر ریاست کے غریب لوگ ۔۔۔
saraikinews Oct 22, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی شاعری میں نعت ، خورشید ربانی
saraikinews Aug 5, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
  صوبہ سرائیکستان باعث تکلیف و ازیت کا سامان… کیوں؟
saraikinews Jul 29, 2020
سرائیکستان
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ #سرائیکستان تعصب نہیں ملک کی ترقی کی نوید ہے
saraikinews Jul 17, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
لو کہ آج ہم نے خود ھار مان لی ۔۔۔
saraikinews Jul 3, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ اگر لسانیت ہیں تو آئیں تمام صوبے ختم کر کے ایک پاکستان بناتے ہیں
saraikinews Jul 2, 2020
سرائیکی فن پارے
مضامین مضمون
سرائیکی وسیب کی قدیم ’ثقافت‘ کو اجاگر کرتے فن پارے
saraikinews Jun 17, 2020
سرائیکی ثقافت
عمران ظفر بھٹی مضامین
پاکستان کی بہترین ثقافتوں میں سے ایک سرائیکی ثقافت
saraikinews Jun 17, 2020
کالا ہرن
مضامین مضمون
چولستان ڊا ”بزرگ“ جانور۔۔۔کالاہرن
saraikinews Jun 17, 2020
سرائیکی خطہ یا قلعہ غلاموں کا
فیصل شہزاد چغتائی
سرائیکی خطہ یا قلعہ غلاموں کا؟
Farzana Kousar May 19, 2020
saraiki soba
فیصل شہزاد چغتائی
سرائیکی صوبے کا وجود ہر قوم کے لیے ناگزیر ہے
saraikinews May 19, 2020
فدا حسین گاݙی مضامین مضمون
اسلامی جمعیت، مذہب، وسیب اَتیں تعلیم
saraikinews May 19, 2020
سعدیہ کمال مضامین مضمون
سرائیکی افسانے کی روایت۔ آغاز و ارتقا۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
بُݙدیاں کندھیاں، اُڄڑدیاں جھوکاں ۔۔۔۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
آدم شماری ۔۔۔ ہک کروڑ ٻاوی لکھ سرائیکیں دی اجتماعی قبر
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی صوبہ دا جغرافیہ اتے دریاویں دے پاݨی دی ونڈ
saraikinews May 19, 2020
پروفیسر اللہ ݙتہ مضامین مضمون
طلاق دینے کا احسن طریقہ
saraikinews May 17, 2020
اقبال زرقاش مضامین مضمون
    کیا منافع خور حکومت کی دسترس میں نہیں ؟
saraikinews May 8, 2020

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

YOU MAY HAVE MISSED
muzafarghar
مظفرگڑھ
مظفرڳڑھ: شوگر مل اچ بھاہ لڳݨ نال ݙو بندے جاں بحق تے ہک زخمی
saraikinews Jan 27, 2026
finance
اسلام آباد
ملکی معیشت مالی سال 2026 اچ ترقی دی رفتار برقرار رکھݨ کیتے موزوں پوزیشن اچ اے، ایں مہینے اچ مہنگائی 5 توں 6 فیصد دی حد اچ رہسی، وزارتِ خزانہ
saraikinews Jan 27, 2026
ali asif
اسلام آباد
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نال آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین دی ملاقات
saraikinews Jan 27, 2026
atta tarar
اسلام آباد
ضلع خیبر دے قبائل سیالے اچ نقل مکانی کریندے رہندن، کے پی حکومت دے ترجمان ایندے تے بے بنیاد بیان ݙیندن، عطاء اللہ تارڑ
saraikinews Jan 27, 2026

Copyright © 2026 | Powered by WordPress | Frankfurt News by ThemeArile

  • About us
  • About Us
  • Services
  • Privacy Policy
  • Careers
    • Portfolio
    • Support
  • DMCA
  • Join Us
  • Contact Us
  • FAQ