Skip to content
  • Wednesday, 11 February 2026
  • 6:58 am
  • Follow Us
saraikinews
  • صفحہ اول
  • قومی
    • کراچی
    • اسلام آباد
    • لاہور
  • دنیا
  • مضمون
    • فیصل شہزاد چغتائی
    • پروفیسر اللہ دتہ قادری
    • پروفیسر اللہ ݙتہ
    • شہزاد حسین بھٹی
  • ٹیکنالوجی
  • کھیڈ
  • شوبز
  • کاروبار
  • About us
    • Privacy Policy
    • Contact Us
    • DMCA
    • Join Us
  • رابطہ
  • Home
  • پاک امریکہ تعلقات‘ فیصلہ کن موڑ پر
مضامین مضمون

پاک امریکہ تعلقات‘ فیصلہ کن موڑ پر

saraikinews Jan 7, 2018 1

پاک امریکہ تعلقات‘ فیصلہ کن موڑ پر

(کالم نگار | جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ)

1950ءسے لیکر اب تک پاکستان امریکہ کا قابل اعتماد اتحادی رہا ہے اور یہ تعلقات ساٹھ (60) برسوں پر محیط ہیں۔ اس عرصے میں پاکستان نے چار مرتبہ نظام کی تبدیلی کے کٹھن مراحل طے کئے اور پھر مشرف نے افغانستان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا غیر اخلاقی فیصلہ کرکے پاکستانی قوم کو شرمسار کیا اور دکھوں کا سامان مہیا کیا۔ 2001ءسے 2008ءکے عرصے میں پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے مفادات کا انتہائی سستے داموں یعنی صرف 33 بلین امریکی ڈالروں کے عوض سودا کیا (بقول صدر ٹرمپ) جبکہ پاکستان کو 120 بلین امریکی ڈالرسے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا اور 60 ہزار سے زائد شہریوں اور قریب قریب چھ ہزار فوجیوں کی قیمتی زندگیوں کی قربانی دینا پڑی ہے۔ اسکے باوجود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ “پاکستان نے امریکہ کو دھوکے اور جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔” در اصل ٹرمپ کی یہ ہرزہ سرائی ایک زوال پذیر سپرپاورکی پست ذہنیت کی علامت ہے جو شکست’ہزیمت اورشرمندگی کی عکاسی کرتی ہے۔

1989ءمیں جب افغان حریت پسندوں کے ہاتھوں سویٹ یونین کو شکست اٹھانا پڑی تواس موقع کو امریکہ نے اپنے مفادات کو عالمی سطح پر پھیلانے کیلئے غنیمت سمجھا۔ انہیں یقین کی حد تک یہ احساس تھا کہ روس کو اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کیلئے کئی دہائیاں لگیں گی جبکہ چین بھی کوئی قابل ذکر مقام حاصل کرنے سے قاصر ہوگا۔ لہٰذا امریکہ نے مسلم ممالک کو دشمن سمجھتے ہوئے ان کیخلاف کروسیڈ (صلیبی جنگیں) شروع کردیا‘ خصوصاً اسلامی حکومتوں‘ سیاسی اسلامی ممالک اور پاکستان جیسے معتدل مسلم ممالک کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا شام‘ عراق‘ صومالیہ‘لیبیا‘ یمن اور افغانستان کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا اور بیس لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کوبے دریغ شہید کر دیا۔ امریکہ نے جنگ جیتے ہوئے افغانوں کے ساتھ دھوکہ کرتے ہوئے خانہ جنگی شروع کرائی اور نائن الیون کے سانحہ کو بہانہ بناکر افغانستان پر لشکر کشی کر دی لیکن طالبان کے ہاتھوں شرمناک شکست کھانے کے باوجود وہاں سے نکلنے پر آمادہ نہیں ہیں‘ اس لئے کہ وہ افغانستان کو اپنی کالونی سمجھتے ہیں۔

گزشتہ دو عشروں کے درمیان حالات نے پلٹا کھایا ہے جو امریکہ کے مفادات کےخلاف ہیں۔انکے مقابل صدر پیوٹن کے فلسفہ تصادم کے تحت جارجیا‘ یو کرائن اور شام میں روس کی سفارتی اور عسکری کامیابیوں نے روس کو دوبارہ عالمی سیاست کے مرکزی مقام پر لا کھڑا کیا ہے اور اب وہ امریکہ کے مد مقابل ہے جس کے سبب امریکہ دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہے۔روس نے افغانستان اور پاکستان میں بھی خاصا اثرورسوخ حاصل کرلیاہے جبکہ چین نے اپنی‘ اقتصادی تعاون پر مبنی امن وترقی کی پالیسی پر گامزن رہتے ہوئے دنیا بھر میں عزت ووقار کا مقام پا لیا ہے اور اب وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ چین کی اس روز افزوں ترقی نے امریکہ کو خوف میں مبتلاکردیا ہے جس کےخلاف اس نے انڈو۔ پیسیفک مرکز (Indo-Pacific Pivot) قائم کیا ہے جس میں بھارت کو اہم کردار دیا گیا ہے۔

1979ءکے ایرانی انقلاب کے بعدامریکہ نے ایران کو علاقائی امن کیلئے خطرے کے طور پر بدنام کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے اور قدم قدم پراقتصادی پابندیاں لگا کرایران کیلئے مشکلات پیدا کی ہیں لیکن ایران نے ان تمام چیلنجز کا قومی حمیت اور حوصلے سے مقابلہ کیا ہے اور شام‘ عراق اور یمن کی عسکری مہموں میں شامل رہ کر ان علاقوں میں غیر معمولی اثرورسوخ حاصل کرلیا ہے جو امریکہ اور سعودی عرب دونوں کیلئے تکلیف دہ ہے۔ان اقدامات نے بلاشبہ ایران کی اقتصادیات اور قومی ترقی کے منصوبوں پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ بے روزگاری کی شرح بڑھی ہے اور اسی طرح روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جو حالیہ احتجاج اور بدامنی کی بڑی وجوہات ہیں جنہیں امریکہ اور ایران مخالف لابی کی حمایت حاصل ہے۔ درحقیقت اس سازش کا مقصد ایران میں نظام کی تبدیلی ہے۔

اسی طرح کی کارروائی چند سال قبل ترکی میں بھی کی گئی تھی لیکن ناکام ہوئی تھی اور بعینہ گزشتہ چار سالوں سے پاکستان میں بھی اسی طرح کاسیاسی احتجاج جاری ہے جو نظام کی تبدیلی چاہتا ہے اور ٹیکنوکریٹ کی حکومت کاحامی ہے تاکہ پاکستان میں بھی بنگلہ دیش کی طرح کا لبرل نظام لایا جا سکے لیکن یہ احتجاج ایران کیلئے کسی قسم کی پریشانی کا سبب نہیں ہے کیونکہ ایرانی حکومت اس سے نمٹنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ایرانی حکومت نے ابھی تک اسلامی پاسداران انقلاب (IRGC) کو سول حکومت کی مدد کیلئے نہیں بلایاہے۔ اسلامی پاسداران انقلاب کے ماتحت القدس اور بسیج فورس (Basij Force) کی تعداد دس ملین سے زیادہ ہے جو اس قسم کے احتجاج سے نمٹنے کی بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں۔انہیں عراق کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ اور شام و یمن میں جاری جنگوں کا عملی تجربہ حاصل ہے جو ان کے قابل ذکر طاقت ہونے کا مظہر ہے۔

اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لانے کے باوجود امریکی فوجوں کے قدموں کے نیچے سے افغانستان کی سرزمین نکلتی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال کے دوران طالبان نے 2500 سے زیادہ بڑی اورچھوٹی فوجی کارروائیاں کرکے انہیں بھاری جانی ومالی نقصان پہنچایا ہے۔

طالبان کو اب افغانستان کے سترفیصد علاقوں پر کنٹرول حاصل ہے جہاں اسلامی قوانین نافذ ہیں۔ اس طرح امریکہ کوتمام محاذوں پرشکست کا سامنا ہے‘ چاہے وہ روس ہو‘ چین ہو‘ ایران ہو یا افغانستان کا محاذ جنگ ہو ہر طرف سے ناامیدہوکر امریکہ اب پاکستان پر دباو ڈال رہا ہے کہ اسے افغانستان کی اس مشکل صورتحال سے نکالے لیکن ایسا کرنا اب پاکستان کے بس میں نہیں ہے۔ کیونکہ یہ بات باعث افسوس ہے کہ امریکی فوج ایک عظیم قوت ہونے کے باوجود قومی دفاع کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔ امریکی تجزیہ نگارHarlam Ullman کے بقول امریکی فوج 700 بلین ڈالر کاسالانہ بجٹ خرچ کرکے بھی قومی دفاع میں ناکام ہے اور پاکستانی فوج کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ اسے اس دلدل سے نکالے جس کا بجٹ صرف 7بلین ڈالرہے لیکن دنیا کی بہترین فوج تسلیم کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی دلدل سے نکلنے کا فیصلہ اور اختیار خود امریکہ کے پاس ہے۔ فیصلہ اب امریکہ نے کرنا ہے کہ کتنی جلدی وہ طالبان کے مطالبات تسلیم کر کے اس دلدل سے نکل سکے۔

طالبان کی شرط ہے کہ امن مذاکرات سے پہلے امریکہ افغانستان سے نکل جائے۔ اسکے بعد ہی پاکستانی فوج بھی امریکیوں کو وہاں سے نکالنے میں مدد دینے کیلئے تیار ہوگی۔ امریکیوں کو اب اس حقیقت کا بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ طالبان دہشتگرد نہیں ہیں بلکہ حریت پسند ہیں جنہوں نے گزشتہ سینتیس سالوں میں دنیا کی بڑ ی سے بڑی عسکری قوتوں کو شکست دی ہے اوربے مثال قربانیاں دی ہیں۔وہ ناقابل تسخیر اور پرعزم ہیں اور اب انہیں نہ تودھوکے میں رکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی شکست دی جاسکتی ہے۔

یہ ہیں وہ حالات جن کا صدر ٹرمپ کو سامنا ہے۔ وہ شرمندگی اور بے چارگی کی عبرت ناک شکل ہیں اور انکی کیفیت ایک نوآموز باکسرجیسی ہے‘ جو کھیل کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غلط جگہ (Below the belt) حملہ کرسکتا ہے۔ پاکستان کو محتاط رہنا ہوگا کیونکہ صدر ٹرمپ کے بقول پاکستان نے امریکیوں کو بےوقوف سمجھتے ہوئے‘ سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا جبکہ وہ خود حددرجہ بےوقوف ہیں۔

اب تک پاکستان کا ردعمل سفارتی اعتبار سے درست ہے۔ ہماری مسلح افواج اور حکومت کو حالات کی سنگینی سے نمٹنے کیلئے اپنے آپ کواعتماد کے ساتھ تیار رکھنا ہوگا اور یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب ہمارے سیاسی قائدین الزام تراشی کی سیاست کو ختم کرتے ہوئے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے عمل کو ختم کردیں اور درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے متحد ہو جائیں۔ پچاس سالہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے اور اتحادیوں کا انتخاب کرنے کیلئے ہمارے پاس یہ تاریخی موقع ہے اورپنی قومی سلامتی کے پیش نظر ماضی میں اختیار کئے جانیوالے غلط راستوں کو درست کیا جاسکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی ہرزہ سرائی اور دھمکیوں سے نمٹنے کیلئے ہمیں اپنے دفاع میں تزویراتی گہرائی پیدا کرنا از بس لازم ہے۔ اس مقصد کیلئے ہمیں پاکستان‘ ایران‘ افغانستان اور ترکی کا اتحاد بنانے کی ضرورت ہے‘ جس کی مدد کیلئے اللہ تعالی نے پہلے ہی چین اور روس کو ہماری معاونت کیلئے متعین کر دیا ہے۔ سبحان اللہ!

 

 

وزیر دفاع دا اسرائیلی وزیر دفاع دے ناں منسوب جھوٹی خبر تِ رد عمل ڈے ڈیتا

saraikinews

Website:

Related Story
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
شاہ سرمت حسین، سرائیکی شاعر
saraikinews Jun 5, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کے مشہور شاعر
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی ثقافت اور قوم
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
چین اور امریکا کی کرنسی
saraikinews Jun 4, 2023
khawaja ghulam farid
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
خواجہ غلام فرید: سرائیکی شاعر کا خزانہ
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
عمران خان: پاکستان کے نوے سولہویں وزیراعظم
saraikinews Jun 4, 2023
saraiki language,saraiki,history of saraiki,history of saraiki language,saraiki history,saraiki language history,what is history of saraiki language,history of saraiki language in urdu,saraiki poetry,saraiki people,saraiki culture,saraiki language history complete,history of sraiki language,exclusive history of saraiki language,story of saraiki language,history of saraiki people in hindi,first time complete history of saraiki language,saraiki funny
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کی تاریخ اور ارتقاء: ایک تفصیلی جائزہ
saraikinews Jun 4, 2023
تنویر قیصر شاہد مضامین
طیب ایردوان کی فتح اور جماعتِ اسلامی
saraikinews Jun 4, 2023
مضامین
چین اور روس مغرب کے خلاف نیا بلاک
saraikinews Jun 4, 2023
محمد اکرم چوہدری مضامین
عمران خان کے پاس کیا راستہ ہے؟؟؟؟
saraikinews May 31, 2023
وسعت اللہ خان
مضامین وسعت اللہ خان
بندہ مک سکتا ہے تمباکو نہیں
saraikinews May 31, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
دنیا پاکستان کو ختم کرنے کے درپر، اور ہم بدگمانیوں میں مصروف عمل
saraikinews Apr 20, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ایمان، ایٹمی طاقت اور سی پیک، جن کی کی تباھی کے لیے دنیا کھربوں ڈالر لگا سکتی ہے
saraikinews Apr 9, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ہمیں امریکا کیساتھ ہو کر کیا ملے گا؟
saraikinews Apr 3, 2022
سدرہ بتول مضامین
شب برات، بخشش دی رات، تحریر:سدرہ بتول
saraikinews Mar 17, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
محمد علی جناح دی فوٹو نوٹ تے چھپݨ تے کیا تھئیا؟
saraikinews Mar 15, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
اوسان باختہ تھئی گئے
saraikinews Jan 1, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
امیر ریاست کے غریب لوگ ۔۔۔
saraikinews Oct 22, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی شاعری میں نعت ، خورشید ربانی
saraikinews Aug 5, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
  صوبہ سرائیکستان باعث تکلیف و ازیت کا سامان… کیوں؟
saraikinews Jul 29, 2020
سرائیکستان
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ #سرائیکستان تعصب نہیں ملک کی ترقی کی نوید ہے
saraikinews Jul 17, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
لو کہ آج ہم نے خود ھار مان لی ۔۔۔
saraikinews Jul 3, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ اگر لسانیت ہیں تو آئیں تمام صوبے ختم کر کے ایک پاکستان بناتے ہیں
saraikinews Jul 2, 2020
سرائیکی فن پارے
مضامین مضمون
سرائیکی وسیب کی قدیم ’ثقافت‘ کو اجاگر کرتے فن پارے
saraikinews Jun 17, 2020
سرائیکی ثقافت
عمران ظفر بھٹی مضامین
پاکستان کی بہترین ثقافتوں میں سے ایک سرائیکی ثقافت
saraikinews Jun 17, 2020
کالا ہرن
مضامین مضمون
چولستان ڊا ”بزرگ“ جانور۔۔۔کالاہرن
saraikinews Jun 17, 2020
فدا حسین گاݙی مضامین مضمون
اسلامی جمعیت، مذہب، وسیب اَتیں تعلیم
saraikinews May 19, 2020
سعدیہ کمال مضامین مضمون
سرائیکی افسانے کی روایت۔ آغاز و ارتقا۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
بُݙدیاں کندھیاں، اُڄڑدیاں جھوکاں ۔۔۔۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
آدم شماری ۔۔۔ ہک کروڑ ٻاوی لکھ سرائیکیں دی اجتماعی قبر
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی صوبہ دا جغرافیہ اتے دریاویں دے پاݨی دی ونڈ
saraikinews May 19, 2020
پروفیسر اللہ ݙتہ مضامین مضمون
طلاق دینے کا احسن طریقہ
saraikinews May 17, 2020
اقبال زرقاش مضامین مضمون
    کیا منافع خور حکومت کی دسترس میں نہیں ؟
saraikinews May 8, 2020
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
   غریبی جرم ہے ایسا کہ دیکھ کر مجھ کو
saraikinews May 8, 2020
اقبال زرقاش مضامین مضمون
پنجاب میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح
saraikinews May 8, 2020

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

YOU MAY HAVE MISSED
muzafarghar
مظفرگڑھ
مظفرڳڑھ: شوگر مل اچ بھاہ لڳݨ نال ݙو بندے جاں بحق تے ہک زخمی
saraikinews Jan 27, 2026
finance
اسلام آباد
ملکی معیشت مالی سال 2026 اچ ترقی دی رفتار برقرار رکھݨ کیتے موزوں پوزیشن اچ اے، ایں مہینے اچ مہنگائی 5 توں 6 فیصد دی حد اچ رہسی، وزارتِ خزانہ
saraikinews Jan 27, 2026
ali asif
اسلام آباد
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نال آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین دی ملاقات
saraikinews Jan 27, 2026
atta tarar
اسلام آباد
ضلع خیبر دے قبائل سیالے اچ نقل مکانی کریندے رہندن، کے پی حکومت دے ترجمان ایندے تے بے بنیاد بیان ݙیندن، عطاء اللہ تارڑ
saraikinews Jan 27, 2026

Copyright © 2026 | Powered by WordPress | Frankfurt News by ThemeArile

  • About us
  • About Us
  • Services
  • Privacy Policy
  • Careers
    • Portfolio
    • Support
  • DMCA
  • Join Us
  • Contact Us
  • FAQ