Skip to content
  • Thursday, 26 February 2026
  • 6:52 am
  • Follow Us
saraikinews
  • صفحہ اول
  • قومی
    • کراچی
    • اسلام آباد
    • لاہور
  • دنیا
  • مضمون
    • فیصل شہزاد چغتائی
    • پروفیسر اللہ دتہ قادری
    • پروفیسر اللہ ݙتہ
    • شہزاد حسین بھٹی
  • ٹیکنالوجی
  • کھیڈ
  • شوبز
  • کاروبار
  • About us
    • Privacy Policy
    • Contact Us
    • DMCA
    • Join Us
  • رابطہ
  • Home
  • سرائیکی افسانے کی روایت۔ آغاز و ارتقا۔۔
سعدیہ کمال مضامین مضمون

سرائیکی افسانے کی روایت۔ آغاز و ارتقا۔۔

saraikinews May 19, 2020 0

سرائیکی افسانے کی روایت۔ آغاز و ارتقا۔۔

لکھت : سعدیہ کمال
سرائیکی ادب میں کہانی سے افسانے تک کا سفر بہت طویل ہے۔ اگر افسانے کی آج کی شکل کی طرف نظر دوڑائی جائے، تو غلام حسن حیدراٹی اور تحسین سبائے والوی کے نام آتے ہیں۔ ’’غلام حسن حیدرانی دے افسانے‘‘ جہاں عام قاری کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، وہاں سرائیکی طالب علموں کی بہت بڑی ضرورت بھی پوری ہوگئی۔ اس مجموعے میں پائے جانے والے دس افسانے وسیب کے ساتھ مضبوط رشتے کا ثبوت ہیں۔
سرائیکی کے کچھ افسانہ نگاروں نے اردو زبان کے جدید ادب سے متاثر ہو کر بہت جلد سرائیکی میں علاقائی افسانہ شروع کیا، ان میں عامر فہیم، بتول رحمانی، مسرت کلانچوی جیسے افسانہ نگار نمایاں ہیں۔ انہوں نے تہذیبی اور ثقافتی زندگی پر اپنے افسانے کی بنیاد رکھنے کی بجائے ایک متحرک جدید زندگی کو اپنا موضوع بنایا۔ عامر فہیم کی کتاب ’’جاگدی اکھ دا خواب‘‘ اور احسن واگھا کے افسانوی مجموعے ’’تھل کرن دریا‘‘ اور ’’آدی واس‘‘ جیسی کتابیں لکھی گئیں۔ 1948ء میں اوچ شریف کے آصف اچوی نے ’جھاڑو دا تیلا‘‘ کے عنوان سے سرائیکی افسانہ لکھا مگر 1969ء کا سال سرائیکی افسانے کے حوالے سے یادگار سال ثابت ہوا۔ اس سال سے باقاعدہ سرائیکی افسانے کا آغاز ہوا۔ اس سال پہلا ترجمہ شدہ افسانہ اکرم فریدی کا شائع ہوا اگرچہ قاسم جلال کی متفرق نثری صنفوں کا مجموعہ ’’ہنجوں تے ہیرے‘‘ اگست 1976ء میں شائع ہوا جس میں ایک افسانہ بھی تھا، تاہم سرائیکی افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’اچی دھرتی جھکا آسمان‘‘ خاتون افسانہ نگار مسرت کلانچوی کی کاوش تھا۔ ڈاکٹر طاہر تونسوی ’’سرائیکی ادب ریت تے روایت‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’سرائیکی زبان و ادب کا نثری سرمایہ بہوں کم ہے۔ دس بارہ سالوں میں نثر کی طرف توجہ دی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تعلیم یافتہ لوگوں نے سرائیکی لکھنی شروع کر دی اور اس طرح دوسری زبانوں کے ساتھ ساتھ سرائیکی کے نثری ادب میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘(30)
اس سلسلے میں دلشاد کلانچوی ’’سرائیکی اور اس کی نثر‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اردو ہی کی طرح سرائیکی افسانے کے وجود میں آنے سے پہلے لوک داستانیں اور لوک کہانیاں وجود میں تھیں۔ ایسی داستانوں میں عوامی تفریح، انسانی تجربوں کا نچوڑ اور زبان کی چاشنی وافر پائی جاتی تھی۔ ان میں تھلّوں اور صحراؤں کی بیکرانی، پہاڑوں کی عظمت، دریاؤں کی روانی، دیہاتی معاشرہ کی سادگی اور فصلوں کی خوشبوئیں رچی ہوتی تھیں۔ ان کے کردار عوامی زندگی کے سچے ترجمان ہوتے تھے، گویا اردو داستانوں اور کہانیوں کی خوشبو بھی ان میں موجود تھی۔ ان لوک کہانیوں میں رومان بھی تھا۔ پیروں فقیروں اور بزرگوں کے قصے بھی تھے۔ بہادری و دانشمندی، عدل و انصاف، خانگی تعلقات اور جھگڑے تنازعے وغیرہ جیسے موضوعات کو بھی جگہ دی جاتی تھی اور فکرِ روز گار بھی تھا۔‘‘
وہ مزید لکھتے ہیں: ’’قومی زبان اردو کی طرح سرائیکی میں بھی پرانے قصے کہانیوں اور داستانوں میں دوسرے موضوعات کے علاوہ جنوں، پریوں کی باتیں ہیں۔ جادوگروں کے کارنامے اور کرشمے بھی ہیں لیکن جب سے انسانی شعور نے پلٹا کھایا ہے، تو ان قصوں کہانیوں اور داستانوں کا جنوں بھی کم ہو گیا ہے بلکہ ان کی بجائے نثری ادب کی ایک نئی اور مختصر صنف وجود میں آ گئی ہے جسے عام طور پر افسانہ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اردو افسانے کا آغاز پہلے ہو چکا تھا لیکن سرائیکی افسانے کا آغاز قیامِ پاکستان کے بعد سے ہوا ہے، اگر اس سے قبل کوئی افسانے لکھے گئے ہیں، تو وہ شائع نہ ہو سکنے کی وجہ سے ضائع ہو چکے ہیں، یا گمنامی کی قبروں میں دفن ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں نشر و اشاعت کی سہولتیں بھی نہ ہونے کے برابر رہی ہیں۔ اس پر تقسیمِ ملک کی اتھل پتھل رہی ہے۔ حالات مخدوش سے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ سب سے پہلا سرائیکی افسانہ کس نے لکھا اور کب لکھا، لیکن قراین و قیاس یہی ہے کہ افسانہ نگاری کی روش قائم رہی اور افسانے لکھے جاتے رہے۔‘‘
بہاولپور سے دو چار رسالے بھی چھپے، لیکن ان میں سرائیکی زبان و ادب کا گزر نہ ہوچکا، اگر کچھ ہوا بھی تو اتنا کہ زیادہ تر نثر اردو میں سرائیکی زبان و ادب کے کچھ چرچے ہوتے رہے، وہ بھی صرف رسالہ ’’الفرید‘‘ میں۔ سرائیکی زبان و ادب کی تاریخ میں ’’پنجند‘‘ کے نام سے 1950ء میں سرائیکی زبان کا پہلا رسالہ کراچی سے شائع ہوا۔بدقسمتی سے اس وقت کا کوئی شمارہ دستیاب نہ ہو سکنے کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں کون سے اور کس کس کے افسانے شائع ہوئے ہوں گے۔ اس رسالہ کے 24 صفحے ہوتے تھے۔ بہرحال سرائیکی کا یہ رسالہ بھی چھے مہینے کے بعد بند ہو گیا تھا۔ پندرہ سولہ سالوں کے بعد بہاولپور سے ایک اور رسالہ جاری ہوا۔ اس کا نام ’’سرائیکی‘‘ رکھا گیا۔ یہ رسالہ بالخصوص سرائیکی زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے سلسلے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس رسالہ میں بالاہتمام نظم و نثر میں سرائیکی مضامین چھپنے لگے اور سرائیکی افسانے بھی جگہ پانے لگے۔ یہ رسالہ جون؍ اکتوبر 1965ء سے شائع ہونا شروع ہوا تھا۔ سب سے پہلا باقاعدہ افسانہ جولائی 1976ء میں شائع ہوا۔ اس افسانے کا عنوان ’’شہید‘‘ تھا۔ یہ پہلا مطبوعہ افسانہ تحسین سبائے والوی نے لکھا تھا۔
پھر مارچ 1968ء کو دلشاد کلانچوی کا افسانہ ’’روہی داہک خواب‘‘ اسی رسالے میں شائع ہوا۔ انہی دنوں جگو والا (ملتان) سے ہفتہ وار ’’اختر‘‘ نے بھی سرائیکی ’’ماہانہ ایڈیشن‘‘ نکالنا شروع کردیا تھا۔ یہ ہفتہ وار 1964ء سے شائع ہو رہا تھا۔ اس میں بھی سب سے پہلے 24 اگست 1968ء کے شمارے میں افسانہ ’’سہارا‘‘ چھپا۔ جسے تحسین سبائے والوی نے ہی لکھا تھا۔ اس طرح سرائیکی افسانے نے سرپیر نکالنے شروع کردئیے۔ اس ہفتہ وار اخبار ’’اختر‘‘ نے ستمبر؍ اکتوبر 1969ء کا مشترکہ شمارہ ’’افسانہ نمبر‘‘ کی شکل میں شائع کیا۔ اس میں نو افسانے شامل تھے جو اسماعیل احمدانی، غلام حسین حیدرانی، اختر علی بلوچ، محمد رمضان طالب، سجاد بریلوی، نجمہ کوکب وغیرہ کے لکھے ہوئے تھے۔ سرائیکی افسانہ نگاری کی تاریخ میں یہ شمارہ ایک سنگِ میل کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ اس افسانہ نمبر میں زیادہ تر نئے افسانہ نگار تھے، پھر بھی دوچار نام ایسے بھی شامل ہیں جو مشہور و معروف ادیب ہیں اور جنہوں نے بعد میں بھی افسانہ نگاری سے لو لگائے رکھی۔ یہ حضرات سرائیکی افسانہ نگاروں کے سرخیل بنے۔ انھوں نے افسانہ کے میدان میں سرائیکی زبان و ادب کی بے مثال خدمت کی، اگرچہ یہ حضرات پرانی طرز کے افسانے لکھنے والے تھے، مگر بعض نے نئے تجربے بھی کیے۔ اختر علی بلوچ نے زیادہ تر تاریخی واقعات کو افسانے کا چولا پہنایا۔
اسماعیل احمدانی کچھ ڈھیلے پڑگئے، غلام حسن حیدرانی اپنی مثنوی ’’ممی‘‘ اور ’’گلو‘‘ میں مصروف ہو گئے۔ لیکن تحسین سبائے والوی نے افسانہ نگاری کو جاری رکھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے باقی حضرات کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں افسانے لکھے۔ ادھر رسالہ سرائیکی بہاولپور کے توسط سے بھی کئی افسانہ نگار متعارف ہوئے۔ ان میں سب سے پہلے ظفر لشاری سامنے آتے ہیں۔ رسالہ ’’سرائیکی‘‘ بہاولپور نے ایک سرائیکی افسانہ نگارہ کو بھی متعارف کرایا۔ یہ مسرت کلانچوی ہیں۔ یہ پہلی افسانہ نگار خاتون ہیں جنھوں نے اپنے سرائیکی افسانوں کا ایک باقاعدہ مجموعہ ’’اچی دھرتی جھکا اَسمان‘‘ کے نام سے شائع کرایا جو بہت مقبول ہوا۔ ان کے دیکھا دیکھی کئی افسانہ نگار خواتین میدان میں آئیں۔ چنانچہ مل جل کر آج ہمارے سرائیکی خواتین افسانہ نگاروں کی ایک اچھی بھلی کھیپ پیدا ہو چکی ہے۔
دس لوک کہانیوں پر مشتمل ایک خوبصورت مجموعہ ’’ہک ہا بادشاہ‘‘ کے نام سے طاہر غنی نے اکیڈمی کبیروالا ملتان ڈویژن سے شائع کیا ہے۔ اس میں سرائیکی زبان و ادب اور سرائیکی ثقافت کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ یہ طاہر غنی کی تصنیف و تالیف ہے۔ غرضیکہ سرائیکی افسانہ نگاری سے تھوڑے عرصے میں بڑی ترقی اور پیش رفت کی۔
نواز کاوش’’ترکہ‘‘ میں سرائیکی افسانہ کے آغاز و ارتقا کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’سرائیکی افسانہ نثری ادب وچ بہوں دیر نال آئے۔ ایندی وجہ سرائیکی علاقے دے جغرافیائی حالات ہن تے اتھاں پریس دیاں سہولتاں نہ ہوون ہے۔ اے گالھ سچی جو اتھاں افسانہ لکھیا گیا۔ لوک کہانی تے رومانی کہانی بہوں مدت توں لکھی ویندی ہئی ہے۔ وَل افسانہ وی اتھاں تحریر تھیا ہر تخلیق کار دور دراز علاقیاں وچ بیٹھے ہن، انہاں دا مرکز نال تعلق نہ ہا۔ لہٰذا افسانہ ساڈے کول دیر نال پجیا۔ 1866ء وچ بہاولپور توں سرکاری گزٹ ’’صادق الاخبار‘‘ چھپنا شروع تھیا۔ ایں گزٹ وچ کتھائیں کتھائیں ادب کوں وی جاملی کوئی باقاعدہ سرائیکی افسانہ ایں اخبار وچ شائع تاں ناں تھی سگیا البتہ سرائیکی افسانے کوں اپڑیں جانب آون دا موقع ضرور مل گیا۔ نجی محفلاں وچ افسانہ نگار ابڑیں افسانے پڑھدے تے داد لیندے ہن۔ قیام پاکستان دے بعد رسالہ ’’العزیز‘‘ بہاولپور نے کجھ سرائیکی افسانے شائع کیتے لیکن ہن او شمارے نہیں ملدے۔ ول 1950ء وچ کراچی توں ’’رسالہ پنجند‘‘ شروع تھیا، ایں رسالے وچ سرائیکی افسانے شائع تھے مگر ایں رسالے دی وی کوئی کاپی محفوظ کاینی۔‘‘
وہ آگے لکھتے ہیں: ’’1964ء وچ بہاولپور توں سرائیکی رسالہ جاری تھیا۔ جیکوں سرائیکی ادبی مجلس بہاولپور نے چھاپیا۔ بریگیڈیئر سید نذیر علی شاہ ایں رسالے دے ایڈیٹر ہن۔ ایں رسالے وچ پہلا سرائیکی افسانہ جولائی 1961ء وچ چھپیا۔جیندا عنوان ہا ’’شہید‘‘۔ ایں افسانے کوں تحسین سبائے والوی نے لکھا ہا۔ مارچ 1968ء وچ دلشاد کلانچوی دا افسانہ چھپیا۔ ایں اثنا وچ جگو والا ملتان توں ہفتہ وار ’’اختر‘‘ نے افسانہ نمبر شائع کیتا۔ ایں نمبر وچ نوں افسانے شامل ہن۔ اے افسانہ نمبر سرائیکی افسانے دی تاریخ دا سنگ میل ہے۔ ایں طرح ’’اختر‘‘ دے چھپن والے بہوں سارے لکھاریاں نے مستقبل وچ افسانے دی بہوں خدمت کیتی تے ابڑیں سنجان بنائی۔ نہ صرف سنجان بنائی بلکہ انج انج اسلوب اختیار کرتے افسانے کوں اگوں ودھایا۔ اخترعلی بلوچ نے تاریخی واقعات تے کرداراں کوں افسانے وچ پیش کیتا۔‘‘
غفور شاہ قاسم ’’پاکستانی ادب‘‘ میں سرائیکی افسانے کی ابتدا کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’سرائیکی افسانے کو کتابی شکل میں لانے والی پہلی کتاب اور سرائیکی افسانوں کا پہلا باقاعدہ مجموعہ دونوں ہی 1976ء میں شائع ہوئے۔ سرائیکی افسانے کو کتابی شکل میں سامنے لانے والی پہلی کتاب ’’ہنجوں تے ہیرے‘‘ ہے۔ قاسم جلال کی انہی صفحات پر مشتمل اس کتاب کو فنکار اکیڈمی بہاولپور نے شائع کیا اور بہاولپور ہی کی سرائیکی لائبریری نے مسرت کلانچوی کے افسانوی مجموعے ’’اچی دھرتی جھکا اسمان‘‘ کو جسے سرائیکی افسانوں کے پہلے مجموعے کا اعزاز حاصل ہے شائع کیا آٹھ افسانوں کے اس مجموعے کا ابتدائیہ ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر نے ’’شناخت‘‘ کے نام سے لکھا۔‘‘
saraikinews

Website:

Related Story
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
شاہ سرمت حسین، سرائیکی شاعر
saraikinews Jun 5, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کے مشہور شاعر
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی ثقافت اور قوم
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
چین اور امریکا کی کرنسی
saraikinews Jun 4, 2023
khawaja ghulam farid
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
خواجہ غلام فرید: سرائیکی شاعر کا خزانہ
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
عمران خان: پاکستان کے نوے سولہویں وزیراعظم
saraikinews Jun 4, 2023
saraiki language,saraiki,history of saraiki,history of saraiki language,saraiki history,saraiki language history,what is history of saraiki language,history of saraiki language in urdu,saraiki poetry,saraiki people,saraiki culture,saraiki language history complete,history of sraiki language,exclusive history of saraiki language,story of saraiki language,history of saraiki people in hindi,first time complete history of saraiki language,saraiki funny
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کی تاریخ اور ارتقاء: ایک تفصیلی جائزہ
saraikinews Jun 4, 2023
تنویر قیصر شاہد مضامین
طیب ایردوان کی فتح اور جماعتِ اسلامی
saraikinews Jun 4, 2023
مضامین
چین اور روس مغرب کے خلاف نیا بلاک
saraikinews Jun 4, 2023
محمد اکرم چوہدری مضامین
عمران خان کے پاس کیا راستہ ہے؟؟؟؟
saraikinews May 31, 2023
وسعت اللہ خان
مضامین وسعت اللہ خان
بندہ مک سکتا ہے تمباکو نہیں
saraikinews May 31, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
دنیا پاکستان کو ختم کرنے کے درپر، اور ہم بدگمانیوں میں مصروف عمل
saraikinews Apr 20, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ایمان، ایٹمی طاقت اور سی پیک، جن کی کی تباھی کے لیے دنیا کھربوں ڈالر لگا سکتی ہے
saraikinews Apr 9, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ہمیں امریکا کیساتھ ہو کر کیا ملے گا؟
saraikinews Apr 3, 2022
سدرہ بتول مضامین
شب برات، بخشش دی رات، تحریر:سدرہ بتول
saraikinews Mar 17, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
محمد علی جناح دی فوٹو نوٹ تے چھپݨ تے کیا تھئیا؟
saraikinews Mar 15, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
اوسان باختہ تھئی گئے
saraikinews Jan 1, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
امیر ریاست کے غریب لوگ ۔۔۔
saraikinews Oct 22, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی شاعری میں نعت ، خورشید ربانی
saraikinews Aug 5, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
  صوبہ سرائیکستان باعث تکلیف و ازیت کا سامان… کیوں؟
saraikinews Jul 29, 2020
سرائیکستان
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ #سرائیکستان تعصب نہیں ملک کی ترقی کی نوید ہے
saraikinews Jul 17, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
لو کہ آج ہم نے خود ھار مان لی ۔۔۔
saraikinews Jul 3, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ اگر لسانیت ہیں تو آئیں تمام صوبے ختم کر کے ایک پاکستان بناتے ہیں
saraikinews Jul 2, 2020
سرائیکی فن پارے
مضامین مضمون
سرائیکی وسیب کی قدیم ’ثقافت‘ کو اجاگر کرتے فن پارے
saraikinews Jun 17, 2020
سرائیکی ثقافت
عمران ظفر بھٹی مضامین
پاکستان کی بہترین ثقافتوں میں سے ایک سرائیکی ثقافت
saraikinews Jun 17, 2020
کالا ہرن
مضامین مضمون
چولستان ڊا ”بزرگ“ جانور۔۔۔کالاہرن
saraikinews Jun 17, 2020
فدا حسین گاݙی مضامین مضمون
اسلامی جمعیت، مذہب، وسیب اَتیں تعلیم
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
بُݙدیاں کندھیاں، اُڄڑدیاں جھوکاں ۔۔۔۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
آدم شماری ۔۔۔ ہک کروڑ ٻاوی لکھ سرائیکیں دی اجتماعی قبر
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی صوبہ دا جغرافیہ اتے دریاویں دے پاݨی دی ونڈ
saraikinews May 19, 2020
پروفیسر اللہ ݙتہ مضامین مضمون
طلاق دینے کا احسن طریقہ
saraikinews May 17, 2020
اقبال زرقاش مضامین مضمون
    کیا منافع خور حکومت کی دسترس میں نہیں ؟
saraikinews May 8, 2020
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
   غریبی جرم ہے ایسا کہ دیکھ کر مجھ کو
saraikinews May 8, 2020
اقبال زرقاش مضامین مضمون
پنجاب میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح
saraikinews May 8, 2020
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
عاصم سلیم باجوہ کی تقرری خوش آئیندقدم
saraikinews May 1, 2020

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

YOU MAY HAVE MISSED
muzafarghar
مظفرگڑھ
مظفرڳڑھ: شوگر مل اچ بھاہ لڳݨ نال ݙو بندے جاں بحق تے ہک زخمی
saraikinews Jan 27, 2026
finance
اسلام آباد
ملکی معیشت مالی سال 2026 اچ ترقی دی رفتار برقرار رکھݨ کیتے موزوں پوزیشن اچ اے، ایں مہینے اچ مہنگائی 5 توں 6 فیصد دی حد اچ رہسی، وزارتِ خزانہ
saraikinews Jan 27, 2026
ali asif
اسلام آباد
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نال آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین دی ملاقات
saraikinews Jan 27, 2026
atta tarar
اسلام آباد
ضلع خیبر دے قبائل سیالے اچ نقل مکانی کریندے رہندن، کے پی حکومت دے ترجمان ایندے تے بے بنیاد بیان ݙیندن، عطاء اللہ تارڑ
saraikinews Jan 27, 2026

Copyright © 2026 | Powered by WordPress | Frankfurt News by ThemeArile

  • About us
  • About Us
  • Services
  • Privacy Policy
  • Careers
    • Portfolio
    • Support
  • DMCA
  • Join Us
  • Contact Us
  • FAQ