Skip to content
  • Tuesday, 10 February 2026
  • 10:19 pm
  • Follow Us
saraikinews
  • صفحہ اول
  • قومی
    • کراچی
    • اسلام آباد
    • لاہور
  • دنیا
  • مضمون
    • فیصل شہزاد چغتائی
    • پروفیسر اللہ دتہ قادری
    • پروفیسر اللہ ݙتہ
    • شہزاد حسین بھٹی
  • ٹیکنالوجی
  • کھیڈ
  • شوبز
  • کاروبار
  • About us
    • Privacy Policy
    • Contact Us
    • DMCA
    • Join Us
  • رابطہ
  • Home
  • دَرس گاہ کا نوحہ
تجزیات شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون

دَرس گاہ کا نوحہ

saraikinews Nov 16, 2017 0

کتب خانوں کا تصور بہت قدیم ہے اور زمانہ قدیم سے ہی کتب خانے معاشرے کی فکر اور علمی ترقی میں مددگار رہے ہیں۔ کسی بھی عہد کی مجموعی ترقی میں علم اور فکر کا ہی دخل رہا ہے۔ کتابیں علم وحکمت کا خزانہ ہوتی ہیں اور شعور و ادراک کی دولت قوموں کو اسی خزانے سے حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی قومی معاشرے میں کتب خانوں سے ایک طرف تو امن اور دوستی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو قوموں کے افراد کے ذہنوں کو تخلیقی اور تعمیری رجحانات دیتی ہے اور وہ تہذیب وتمدن سے آشنا ہو کر اتحاد و اتفاق سے زندگی گزارنے کا فن سیکھتے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے کہ کتابوں کی حفاظت کی جائے جو ہمارا سرمایہ ہیں بلکہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے، سائنس اور ٹیکنالوجی کو سکھانے والی کتابوں کا اپنی زبان میں ترجمہ کرکے انہیں کتب خانوں کی زینت بنایا جائے تاکہ ہر خاص و عام کی جدید علوم تک رسائی ہو اور ملک کی ترقی کے لئے نئی راہیں کھل سکیں۔ کتب خانوں کا تصور بہت قدیم ہے اور زمانہ قدیم سے ہی کتب خانے معاشرے کی فکر اور علمی ترقی میں مددگار رہے ہیں۔ کسی بھی عہد کی مجموعی ترقی میں علم اور فکر کا ہی دخل رہا ہے۔ کتابیں علم وحکمت کا خزانہ ہوتی ہیں اور شعور و ادراک کی دولت قوموں کو اسی خزانے سے حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی قومی معاشرے میں کتب خانوں سے ایک طرف تو امن اور دوستی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو قوموں کے افراد کے ذہنوں کو تخلیقی اور تعمیری رجحانات دیتی ہے اور وہ تہذیب وتمدن سے آشنا ہو کر اتحاد و اتفاق سے زندگی گزارنے کا فن سیکھتے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے کہ کتابوں کی حفاظت کی جائے جو ہمارا سرمایہ ہیں بلکہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے، سائنس اور ٹیکنالوجی کو سکھانے والی کتابوں کا اپنی زبان میں ترجمہ کرکے انہیں کتب خانوں کی زینت بنایا جائے تاکہ ہر خاص و عام کی جدید علوم تک رسائی ہو اور ملک کی ترقی کے لئے نئی راہیں کھل سکیں۔  کتاب کے ساتھ ہم مسلمانوں کو ایک خاص نسبت ہے۔ ہمارے نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم پر جو پہلا اِرشاد ِ خداوندی اْترا وہ یہی تھا کہ “پڑھ” اور یہ اللہ تعالٰی کی نوازشات کی انتہا تھی کہ غارِ حرا کے اْس نورانی لمحے نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو “علم کا شہر” بنا دیا اور اْنہیں ایک عظیم کتاب کا حامل اور مبلغ قرار دیا۔ وہ کتاب جو سعادتوں اور برکتوں کا خزانہ ہے۔ گویا مسلمان دینی نقطہِ نظر سے اور وراثت کے اعتبار سے صاحبِ کتاب بھی ہے اور کتاب دوست بھی۔قوموں کی تعمیر وترقی میں تحقیق و مطالعہ بنیادی کردار کا حامل ہے انٹرنیٹ کی ترقی کے باوجود لائبریری کی اہمیت موجود ہے اساتذہ کو نہ صرف اپنے مطالعے کو فروغ دینا چاہیے بلکہ طلبہ میں بھی مطالعہ کتب کا ذوق پروان چڑھانا چاہیے۔ مہنگائی کے اِس دور میں نئی کتابیں خریدنا، اکثریت کے لئے مْشکِل ہو گیا ہے، انسان کے لئے ذاتی لائبریری بنانا بھی روز بروز نامْمکِن ہوتا جا رہا ہے، اِس اعتبار سے کتب خانوں کی اہمیت کہیں بڑھ جاتی ہے، انسان آسانی کے ساتھ جدید تصانیف سے فائدہ اْٹھا سکتا ہے اور پھِر ایک انسان نہیں بلکہ سینکڑوں انسان، سالہا سال اْن علمی سر چشموں سے اپنی فکری پیاس بجھا سکتے ہیں۔ اِس لئے لوگ اپنے ذاتی کتب خانوں کو قومی سطح کے کتب خانوں میں بْطور عطیہ مْنتَقِل کرتے ہیں تا کہ اْ ن کی موت کے بعد یہ کتابیں اپنا نوْر بِکھیرتی اور فِکرو خیال کی راہوں کو اُجالتی رہیں۔ کتاب علم کے نور اور قلم کی عظمت کا ایک خوبصورت اظہار ہے اور جو لوگ علم اور قلم کے اِس سرچشمے سے خود کو وابستہ کر لیتے ہیں وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ الغرض کتب خانے ایک قومی ضرورت ہیں، تنہائی کی نعمت ہیں، ادب اور فن کے خزانے ہیں، علم کا ایک سمندر ہیں کہ موجیں مار رہا ہوتا ہیاور ہر ایک کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی ضرورت اور اپنے ظرف کے مطابق اپنی پیاس بجھاتا چلا جائے۔ کسی بھی درس گاہ میں ایک معیاری لائبریری کا ہونا ایک لازمی امر ہے۔اس کے بغیر تعلیم کا مقصد اور تدریس کا نظا م ادھورا اور نا مکمل رہتا ہے۔کتب خانہ اساتذہ کے لیے اہم اورنا گزیر ہے یہاں اساتذہ علم میں نئی نئی تحقیقات سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔اور طلبہ بھی اپنی نصابی اور غیر نصابی  معلو مات میں اضافہ کرتے ہیں۔چنانچہ ہر سکول و کالج میں معیاری کتب خا نے کا ہو نا ضرو ر ی ہے اس کے بغیردرس  گاہ ایسے ہے جیسا نخلستا ن چشمے کے بغیر یا ایک گھر پا نی کے بغیر۔لا ئبریری گو یا ا یک علمی چشمہ ہے جس سے تشنگا ن علم اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ گذشتہ دنوں پروفیسر نصرت بخاری کی دعوت پر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک جانے کا اتفاق ہوا۔ اپنے زمانہ طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے لائیبریر ی جانے کا قصد کیا۔ جونہی ہم لائیبریر ی پہنچے، لائیبریری کسی پرانے بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی تھی۔نامناسب روشنی،پھٹے پردے، چھتوں سے چونا گر رہاتھا، کھڑکیوں کے آگے الماریاں دھری تھیں، جبکہ سوائے دویا تین کرسیوں کے لائیبریری میں کوئی کرسی یا میز موجود نہ تھا۔اعلیٰ اور نادر کتب دیمک کی نذر تھیں۔کسی الماری پرکوئی معلوماتی ٹیگ نہ تھا۔لائیبریری ایک لاوارث لاش کی طرح میرے سامنے خود اپنی تباہی و بربادی کی کہانی لیے بیٹھی تھی۔گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک کا قیام  1924 میں عمل میں آیا۔ اور یقینا انگریز دور میں ہی اس لائیبریری کا قیام عمل میں آیا ہو گا۔ نادر کتب اس کتاب گھر میں موجود ہیں لیکن وہ کسی تشنگانِ کتب تک پہنچ ہی نہیں پاتیں۔ مجھے  1991-92 کا زمانہ یاد آگیا جب مرحوم نذر صابری اس لائیبریری کے انچارج ہوا کرتے تھے۔ وہ اپنے دور کے ایم اے فارسی تھے لیکن انہوں نے کتاب دار بننا پسند کیا تھا ۔ وہ بلاشبہ ایک روحانی شخصیت اور کتاب دوست تھے۔ ان کے زمانے میں یہ لائیبریری روشن، ہوا دار اوکتاب دوستی کی مثال تھی ۔ ان کے ریٹائر ہونے کے بعد اس لائیبریری کا زوال شروع ہوا۔ اب حالت یہ ہے کہ لائبریری کا کوئی پرسان حال نہیں، کوئی انچارج نہیں۔صرف ایک کلرک اور ایک لیبارٹری اٹنیڈنٹ کے سر پر یہ لائیبریری چل رہی ہے۔یہ اس بیوہ عورت کی مانند ہے جس کا خاوند انتقال کر گیا ہو۔ہماری موجودگی میں شعبہ اردو کے سربراہ پروفیسر اظہر علی وہاں آئے تو ان سے بھی اس حوالے سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ کل وقتی کتاب دار کی تعیناتی اشد ضروری ہے جو پنجاب حکومت کی صوابدید ہے۔ اسی حوالے سے جب ڈپٹی ڈائریکڑ کالجز اٹک پروفیسر عثمان صدیقی سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ضلع اٹک کے سترہ کالجر میں سے صرف دو میں کتاب دار تعینات ہیں جبکہ دیگر اداروں میں کسی پروفسیر کو اضافی چارج دے کر کام چلایا جا رہا ہے۔میں ذاتی طور پر اس لاپرواہی ، غفلت اور کتاب دشمنی کا ذمہ دار کالج کے پرنسپل پروفیسر غلام مصطفی کیانی کو سمجھتا ہوں کیونکہ اگر انسان کے اندر قائدانہ صلاحیتیں ہوں تو نظم کا مظاہر ہ کر سکتا ہے۔ اگرچہ اس لاپرواہی کی ذمہ دار محکمہ تعلیم حکومت پنجاب بھی ہے لیکن سوال یہ کہ کیا اسے اس معاملے سے آگاہ کیا گیا؟یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان جس چیز سے پیارکرتا ہے اس کے ناز نخرے ہر قیمت پر برادشت کرتا ہے۔ اگر مجھے اس لائیبریری کی حالت زار دیکھ کر تشویش ہوئی ہے تو اس لائیبریری سے محبت کرنے والے اس کالج کے منتظمین کو کیوں نہیں۔

 

saraikinews

Website:

Related Story
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
شاہ سرمت حسین، سرائیکی شاعر
saraikinews Jun 5, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کے مشہور شاعر
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی ثقافت اور قوم
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
چین اور امریکا کی کرنسی
saraikinews Jun 4, 2023
khawaja ghulam farid
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
خواجہ غلام فرید: سرائیکی شاعر کا خزانہ
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
عمران خان: پاکستان کے نوے سولہویں وزیراعظم
saraikinews Jun 4, 2023
saraiki language,saraiki,history of saraiki,history of saraiki language,saraiki history,saraiki language history,what is history of saraiki language,history of saraiki language in urdu,saraiki poetry,saraiki people,saraiki culture,saraiki language history complete,history of sraiki language,exclusive history of saraiki language,story of saraiki language,history of saraiki people in hindi,first time complete history of saraiki language,saraiki funny
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کی تاریخ اور ارتقاء: ایک تفصیلی جائزہ
saraikinews Jun 4, 2023
تنویر قیصر شاہد مضامین
طیب ایردوان کی فتح اور جماعتِ اسلامی
saraikinews Jun 4, 2023
مضامین
چین اور روس مغرب کے خلاف نیا بلاک
saraikinews Jun 4, 2023
محمد اکرم چوہدری مضامین
عمران خان کے پاس کیا راستہ ہے؟؟؟؟
saraikinews May 31, 2023
وسعت اللہ خان
مضامین وسعت اللہ خان
بندہ مک سکتا ہے تمباکو نہیں
saraikinews May 31, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
دنیا پاکستان کو ختم کرنے کے درپر، اور ہم بدگمانیوں میں مصروف عمل
saraikinews Apr 20, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ایمان، ایٹمی طاقت اور سی پیک، جن کی کی تباھی کے لیے دنیا کھربوں ڈالر لگا سکتی ہے
saraikinews Apr 9, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ہمیں امریکا کیساتھ ہو کر کیا ملے گا؟
saraikinews Apr 3, 2022
سدرہ بتول مضامین
شب برات، بخشش دی رات، تحریر:سدرہ بتول
saraikinews Mar 17, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
محمد علی جناح دی فوٹو نوٹ تے چھپݨ تے کیا تھئیا؟
saraikinews Mar 15, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
اوسان باختہ تھئی گئے
saraikinews Jan 1, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
امیر ریاست کے غریب لوگ ۔۔۔
saraikinews Oct 22, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی شاعری میں نعت ، خورشید ربانی
saraikinews Aug 5, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
  صوبہ سرائیکستان باعث تکلیف و ازیت کا سامان… کیوں؟
saraikinews Jul 29, 2020
سرائیکستان
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ #سرائیکستان تعصب نہیں ملک کی ترقی کی نوید ہے
saraikinews Jul 17, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
لو کہ آج ہم نے خود ھار مان لی ۔۔۔
saraikinews Jul 3, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ اگر لسانیت ہیں تو آئیں تمام صوبے ختم کر کے ایک پاکستان بناتے ہیں
saraikinews Jul 2, 2020
سرائیکی فن پارے
مضامین مضمون
سرائیکی وسیب کی قدیم ’ثقافت‘ کو اجاگر کرتے فن پارے
saraikinews Jun 17, 2020
سرائیکی ثقافت
عمران ظفر بھٹی مضامین
پاکستان کی بہترین ثقافتوں میں سے ایک سرائیکی ثقافت
saraikinews Jun 17, 2020
کالا ہرن
مضامین مضمون
چولستان ڊا ”بزرگ“ جانور۔۔۔کالاہرن
saraikinews Jun 17, 2020
فدا حسین گاݙی مضامین مضمون
اسلامی جمعیت، مذہب، وسیب اَتیں تعلیم
saraikinews May 19, 2020
سعدیہ کمال مضامین مضمون
سرائیکی افسانے کی روایت۔ آغاز و ارتقا۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
بُݙدیاں کندھیاں، اُڄڑدیاں جھوکاں ۔۔۔۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
آدم شماری ۔۔۔ ہک کروڑ ٻاوی لکھ سرائیکیں دی اجتماعی قبر
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی صوبہ دا جغرافیہ اتے دریاویں دے پاݨی دی ونڈ
saraikinews May 19, 2020
پروفیسر اللہ ݙتہ مضامین مضمون
طلاق دینے کا احسن طریقہ
saraikinews May 17, 2020
اقبال زرقاش مضامین مضمون
    کیا منافع خور حکومت کی دسترس میں نہیں ؟
saraikinews May 8, 2020
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
   غریبی جرم ہے ایسا کہ دیکھ کر مجھ کو
saraikinews May 8, 2020
اقبال زرقاش مضامین مضمون
پنجاب میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح
saraikinews May 8, 2020

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

YOU MAY HAVE MISSED
muzafarghar
مظفرگڑھ
مظفرڳڑھ: شوگر مل اچ بھاہ لڳݨ نال ݙو بندے جاں بحق تے ہک زخمی
saraikinews Jan 27, 2026
finance
اسلام آباد
ملکی معیشت مالی سال 2026 اچ ترقی دی رفتار برقرار رکھݨ کیتے موزوں پوزیشن اچ اے، ایں مہینے اچ مہنگائی 5 توں 6 فیصد دی حد اچ رہسی، وزارتِ خزانہ
saraikinews Jan 27, 2026
ali asif
اسلام آباد
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نال آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین دی ملاقات
saraikinews Jan 27, 2026
atta tarar
اسلام آباد
ضلع خیبر دے قبائل سیالے اچ نقل مکانی کریندے رہندن، کے پی حکومت دے ترجمان ایندے تے بے بنیاد بیان ݙیندن، عطاء اللہ تارڑ
saraikinews Jan 27, 2026

Copyright © 2026 | Powered by WordPress | Frankfurt News by ThemeArile

  • About us
  • About Us
  • Services
  • Privacy Policy
  • Careers
    • Portfolio
    • Support
  • DMCA
  • Join Us
  • Contact Us
  • FAQ