Skip to content
  • Thursday, 29 January 2026
  • 3:16 pm
  • Follow Us
saraikinews
  • صفحہ اول
  • قومی
    • کراچی
    • اسلام آباد
    • لاہور
  • دنیا
  • مضمون
    • فیصل شہزاد چغتائی
    • پروفیسر اللہ دتہ قادری
    • پروفیسر اللہ ݙتہ
    • شہزاد حسین بھٹی
  • ٹیکنالوجی
  • کھیڈ
  • شوبز
  • کاروبار
  • About us
    • Privacy Policy
    • Contact Us
    • DMCA
    • Join Us
  • رابطہ
  • Home
  • سلسلہ نقشبندیہ کے پیر ولی کامل محمد فضل الرحمن دامت برکاتہم العالیہ کی رحلت پر ایک تحریر
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون

سلسلہ نقشبندیہ کے پیر ولی کامل محمد فضل الرحمن دامت برکاتہم العالیہ کی رحلت پر ایک تحریر

saraikinews Jul 5, 2019 0

سلسلہ نقشبندیہ کے پیر ولی کامل محمد فضل الرحمن دامت برکاتہم العالیہ کی رحلت پر ایک تحریر

خصوصی تحریر : شہزاد حسین بھٹی

اپنے وقت کے ایک ولی سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی کسی ولی کو دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں ابھی دو دن پہلے ہی ریلوے اسٹیشن پر دیکھا ہے۔ ہماری گاڑی جیسے ہی رکی تو قلیوں نے دھاوا بول دیا اور ہر کسی کا سامان اٹھانے اور اُٹھا اُٹھا کر بھاگنے لگے، لیکن میں نے ایک قلی کو دیکھا کہ وہ اطمینان سے نماز میں مشغول ہے۔جب اُس نے سلام پھیرا تو میں نے اسے سامان اُٹھانے کو کہا۔ اس نے سامان اُٹھایا اور میری مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیا۔ میں نے اسے ایک روپیہ کرایہ ادا کر دیا۔ اس نے چار آنے اپنے پاس رکھے اور باقی مجھے واپس کردیئے۔میں نے اس سے کہا کہ ایک روپیہ پورا رکھ لو، لیکن اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: نہیں صاحب! میری مزدوری چار آنے ہی بنتی ہے۔
آپ یقین کریں ہم سب ولی بننے اور ولیوں کو ڈھونڈنے میں دربدر ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں مشکل ترین ریاضتوں، مشقتوں اور مراقبوں سے گزرنا پڑے گا۔ سار ی ساری رات نوافل میں گزارنی پڑے گی یا شاید گلے میں تسبیح ڈال کر میلے کچیلے کپڑے پہن کر ’’ہُو‘‘ کی صدائیں لگانا پڑیں گی، تب ہم ولی کے درجے پر پہنچ جائیں گے۔ آپ کمال ملاحظہ کریں ہماری آدھی سے زیادہ قوم بھی اُس کو ہی’’پہنچا‘‘ ہوا سمجھتی ہے جو ابنارمل حرکتیں کرتا نظر آئے گا۔ جو رومال میں سے کبوتر نکال دے یا عاشق کو آپ کے قدموں میں ڈال دے۔خدا کا دوست بننے کے لئے تو اپنی اَنا کو مارنا پڑتا ہے۔ قربانی، ایثار اور انفاق کو اپنی ذات کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔اللہ پاک کے برگزیدہ بندے اور ولی کامل ہر دور میں اللہ کی مخلوق کے درمیان ہو تے ہیں لیکن انہیں ڈھونڈنے کے لیے دیدہ بینا کی ضرور ت ہوتی ہے۔ایسے ہی ایک ولی ِکامل جی ٹی روڈ کامرہ کے بالمقابل رہائش پذیر تھے ۔2012ء سے جی ٹی روڈ کامرہ کے قریب رہنے کے باوجود گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے تھے۔ شریعت کے احکامات کی پابندی کرتے تھے اور تصویر بنوانے سے منع فرماتے تھے۔ فقیر منش اور جلالی تھے۔
میں جب کبھی شہر اقتدار کی مصروف زندگی سے چند گھنٹے اپنی ذاتی تفریح کے لیے نکالتا ہوں تواپنے آبائی علاقہ اٹک شہرکا رُخ کرتا ہوں۔یہ 17 مئی جمعہ کا دن تھا ۔جمعہ کی نماز جی ٹی روڈ کامرہ میں نقشبندی سلسلہ کے بزرگ پیر محمدفضل الرحمن دامت برکاتہم مدظلہ کی مسجد میں پڑھنے کے ارادے سے اٹک پہنچا اورپہلے سے تیار دوستوں اقبال زرقاش، ملک محمد ممریز خان اور پروفیسر نصرت بخاری کے ہمراہ مسجد و خانقاہ پہنچا۔جونہی ہم پیرمحمدفضل الرحمن دامت برکاتہم کی خانقاہ پہنچے تو وہاں انکے صاحبزادے مولانا محمد عبداللہ جو ایک جید عالم دین ہیں اور شہد کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں، نے استقبال کیا۔ با با جی کی موجودگی کی بابت استفسار پر بتایا گیا کہ وہ تو یکم رمضان بروزمنگل 7مئی 2019 کو بعد نماز ظہر دینی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے اس جہان فانی سے داغ مفارقت دے کر داعی اجل کو روانہ ہو گئے۔یہ اطلاع میرے اعصاب پر بجلی بن کر گر ی ۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔ ابھی دوہفتے قبل رمضان المبارک کے آغاز سے قبل اُن کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوا تھا۔ اُس دن وہ مجھے اور میرے دوستوں اقبال زرقاش اور سردار ایاز خالد مٹھیالوی سے کچھ زیادہ ہی محبت اور اُنسیت سے ملے تھے۔ اپنے پاس بٹھا کر آقائے دوجہاں کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے کھجوروں اور قہوہ سے ہماری تواضع کی ، تشنہ طلب سوالوں کے جوابات دیئے او ر اجتماعی دُعا کے ساتھ رُخصت کیا۔
سلسلہ نقشبندیہ کے پیر ولی کامل محمد فضل الرحمن دامت برکاتہم العالیہ افغان النسل سادات خاندان کے قبیلہ حسن خیل سے تعلق رکھتے تھے۔والد محترم کا نام محمد ولی تھا جو سلسلہ قادریہ کے اپنے زمانے کے کامل ولی تھے جبکہ دادا کا نام اولس میر (عوام کا سربراہ)ہے۔ آپ افغانستان میں حکومتی سطح پر بڑے بڑے فیصلوں کے سربراہ تھے۔ آپ کا روحانی تعلق سوات کے حضرت مولانا عبدالغفور بابا جی قدس سرہ کے خلیفہ خاص حضرت مولانا نجم الدین رح جلال آبادی سے تھا جو سلسلہ قادریہ سے بلند پایا بزرگ تھے۔
پیرمحمد فضل الرحمن قدس سرہ کی ولادت با سعادت 1951ء میں افغانستان کے شہر جلا ل آباد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ پرائمری تک سکول پڑھ کر آگے دینی تعلیم حاصل کرنے میںمشغول ہوگئے۔ اُس وقت مدارس کا خاص انتظام نہ تھااور نہ کوئی نصاب مقرر تھا بلکہ طلباء مساجد میں ایک استاد سے ایک دو کتابیں پورا سال پڑھتے تھے۔چنانچہ اسی ترتیب سے آپ نے 9 سال تک مختلف اساتذہ کرام سے دینی کتابیں پڑھیں۔ جس میں علم الخو، علم الصرف، علم المنطق، علم الفقہ، علم اُصول فقہ، علم التفسیر، وغیرہ کی کتابیں شامل ہیں۔چونکہ آپ کے والد ماجد صاحب جاگیر اور زمیندار آدمی تھے ۔ مال مویشی بھی رکھتے تھے او ر مال مویشیوں کی حفاظت کے لیے مزدور بھی رکھتے تھے۔ حضرت پیر صاحب فرماتے ہیں کہ” میں بھی ان مزدورں کے ساتھ اُونٹ، بکریوں کو چراتا تھا اور تقریباً تین سال تک میں نے انبیاء کرام علہیم السلام کی اس مبارک سنت پر عمل کیا”۔
زمانہ طالب علمی کے دوران آپ رح نے سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ خواجہ محمد لعل قندوری دامت برکاتہم سے بیت کا تعلق قائم کیا۔ اس وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی ۔ چونکہ آپ کا باطن صاف تھا، بچپن میں بھی حرام اور مشتبہ چیزوں سے پرہیز کرتے تھے، اسی وجہ سے بیعت ہوتے ہی آپ کو نسبت حاصل ہوئی اور اللہ تعالیٰ کا قرب جو اس سلسلہ نقشبندیہ کے مبتدیین کو حاصل ہو تا ہے وہ قرب و آگاہی نصیب ہوئی اور اسی حال نے آپ کے اوپر غلبہ حاصل کیا۔ہر وقت ذکرالہیٰ میں مستغرق رہتے اور کمال شوق سے گریہ شروع ہو گیا اور ہروقت آنکھوں سے آنسو جاری رہتے۔ آپ نے ایک سال میں تصوف کے اسباق پورے کیے اور ولائیت کے تمام مراتب طے کرلیے۔1970ء میں انیس سال کی عمر میں آپ کو شیخ کی طرف سے خلافت و اجازت مل گئی جسکے بعد آپ نے بیعت و ارشاد کا سلسلہ شروع کیا۔اور اسکے لیے باقاعدہ خانقاہی نظام کا آغاز کیا کیونکہ دین کی نشر و اشاعت میں خانقاہی نظام کا اہم کردار ہے۔تھوڑے ہی عرصے میں اہل عقیدت کی ایک کثیر تعداد نے ا ٓپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہوگئے۔ یہ سلسلہ دس سال جاری رہا۔ دین اسلام کی سربلندی کے لیے جہاد افغانستان میں بھی حصہ لیا۔1980ء میں افغانستان میں جنگ و جدل کے باعث پاکستان کی طرف ہجرت کی اور اپنے آقاحضور ﷺ کی ہجرت والی سنت کو زندہ کیا۔نوشہرہ اورضلع بونیر کے گائوں گوگا کے مہاجر کیمپ میں مستقل رہائش اختیارکی اور اصلاح و ارشاد کا سلسلہ جاری رکھا۔پاکستان میں دورہ تفسیر 1982ء میں ضلع صوابی کے شیخ القرآن حضرت مولانا عبدالہادی شاہ منصوری قدس سرہ سے پڑھی۔
آپ نے 31 سال ضلع بونیر کے ایک مہاجر کیمپ میں گزارے ۔ آپ کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ مستقل رہائش ہو۔چونکہ ہم نے ہجرت کی ہے اس لیے ہم واپس نہیں جانا چاہتے۔ ہمارے آقا دوجہاں ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ ہجرت فرمائی لیکن فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ واپس نہیں گئے بلکہ مدینہ میں مستقل رہائش اختیار فرمائی اور وہیں آپ ﷺ کا روضہ مبارک بنا۔آپ رح نے بھی جی ٹی روڑ کامرہ کے قریب تین کنال رقبے پر مشتمل زمین خرید لی اوریہیں دو مکانات تعمیر کیے اور ایک خانقاہ اور مسجدبھی تعمیر کی جہاں علم و عرفان جاری و ساری ہے۔
آپ رح نے اپنے مریدین کے لیے وصیت چھوڑی کہ وہ ہمیشہ رزق حلال کمانے کو ترجیع دیں ،تفرقہ بازی اور حرام کاموں سے دور رہیں۔آپ کی وفات کے بعد آپ کی وصیت کے مطابق آپ رح کوخانقاہ کے قریب( رقبہ خرید کر )دفن کیا گیا جہاں مزار پر تعمیر کا کام جاری ہے۔ آپ کی رحلت کے بعدا ٓپ کے صاحبزادے حافظ و قاری محمدعبدالباقی دامت برکاتہم مسند خلافت پر درس و تدریس کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔آپ رح سے زندگی میں بے شمار کرامات بھی منکشف ہوئیں جنہیں مضمون کی طوالت کے باعث دم تحریر نہ لایا جا سکا۔اللہ پاک سے دُعا ہے کہ اللہ پاک پیر و مرشد محمد فضل الرحمن دامت برکاتم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے فیض سے بہرہ مند فرمائے۔

saraikinews

Website:

Related Story
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
شاہ سرمت حسین، سرائیکی شاعر
saraikinews Jun 5, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کے مشہور شاعر
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی ثقافت اور قوم
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
چین اور امریکا کی کرنسی
saraikinews Jun 4, 2023
khawaja ghulam farid
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
خواجہ غلام فرید: سرائیکی شاعر کا خزانہ
saraikinews Jun 4, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
عمران خان: پاکستان کے نوے سولہویں وزیراعظم
saraikinews Jun 4, 2023
saraiki language,saraiki,history of saraiki,history of saraiki language,saraiki history,saraiki language history,what is history of saraiki language,history of saraiki language in urdu,saraiki poetry,saraiki people,saraiki culture,saraiki language history complete,history of sraiki language,exclusive history of saraiki language,story of saraiki language,history of saraiki people in hindi,first time complete history of saraiki language,saraiki funny
فیصل شہزاد چغتائی مضامین
سرائیکی زبان کی تاریخ اور ارتقاء: ایک تفصیلی جائزہ
saraikinews Jun 4, 2023
تنویر قیصر شاہد مضامین
طیب ایردوان کی فتح اور جماعتِ اسلامی
saraikinews Jun 4, 2023
مضامین
چین اور روس مغرب کے خلاف نیا بلاک
saraikinews Jun 4, 2023
محمد اکرم چوہدری مضامین
عمران خان کے پاس کیا راستہ ہے؟؟؟؟
saraikinews May 31, 2023
وسعت اللہ خان
مضامین وسعت اللہ خان
بندہ مک سکتا ہے تمباکو نہیں
saraikinews May 31, 2023
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
دنیا پاکستان کو ختم کرنے کے درپر، اور ہم بدگمانیوں میں مصروف عمل
saraikinews Apr 20, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ایمان، ایٹمی طاقت اور سی پیک، جن کی کی تباھی کے لیے دنیا کھربوں ڈالر لگا سکتی ہے
saraikinews Apr 9, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
ہمیں امریکا کیساتھ ہو کر کیا ملے گا؟
saraikinews Apr 3, 2022
سدرہ بتول مضامین
شب برات، بخشش دی رات، تحریر:سدرہ بتول
saraikinews Mar 17, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
محمد علی جناح دی فوٹو نوٹ تے چھپݨ تے کیا تھئیا؟
saraikinews Mar 15, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
اوسان باختہ تھئی گئے
saraikinews Jan 1, 2022
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
امیر ریاست کے غریب لوگ ۔۔۔
saraikinews Oct 22, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی شاعری میں نعت ، خورشید ربانی
saraikinews Aug 5, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
  صوبہ سرائیکستان باعث تکلیف و ازیت کا سامان… کیوں؟
saraikinews Jul 29, 2020
سرائیکستان
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ #سرائیکستان تعصب نہیں ملک کی ترقی کی نوید ہے
saraikinews Jul 17, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
لو کہ آج ہم نے خود ھار مان لی ۔۔۔
saraikinews Jul 3, 2020
فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
صوبہ اگر لسانیت ہیں تو آئیں تمام صوبے ختم کر کے ایک پاکستان بناتے ہیں
saraikinews Jul 2, 2020
سرائیکی فن پارے
مضامین مضمون
سرائیکی وسیب کی قدیم ’ثقافت‘ کو اجاگر کرتے فن پارے
saraikinews Jun 17, 2020
سرائیکی ثقافت
عمران ظفر بھٹی مضامین
پاکستان کی بہترین ثقافتوں میں سے ایک سرائیکی ثقافت
saraikinews Jun 17, 2020
کالا ہرن
مضامین مضمون
چولستان ڊا ”بزرگ“ جانور۔۔۔کالاہرن
saraikinews Jun 17, 2020
فدا حسین گاݙی مضامین مضمون
اسلامی جمعیت، مذہب، وسیب اَتیں تعلیم
saraikinews May 19, 2020
سعدیہ کمال مضامین مضمون
سرائیکی افسانے کی روایت۔ آغاز و ارتقا۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
بُݙدیاں کندھیاں، اُڄڑدیاں جھوکاں ۔۔۔۔۔
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
آدم شماری ۔۔۔ ہک کروڑ ٻاوی لکھ سرائیکیں دی اجتماعی قبر
saraikinews May 19, 2020
مضامین مضمون
سرائیکی صوبہ دا جغرافیہ اتے دریاویں دے پاݨی دی ونڈ
saraikinews May 19, 2020
پروفیسر اللہ ݙتہ مضامین مضمون
طلاق دینے کا احسن طریقہ
saraikinews May 17, 2020
اقبال زرقاش مضامین مضمون
    کیا منافع خور حکومت کی دسترس میں نہیں ؟
saraikinews May 8, 2020
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
   غریبی جرم ہے ایسا کہ دیکھ کر مجھ کو
saraikinews May 8, 2020
اقبال زرقاش مضامین مضمون
پنجاب میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح
saraikinews May 8, 2020

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

YOU MAY HAVE MISSED
muzafarghar
مظفرگڑھ
مظفرڳڑھ: شوگر مل اچ بھاہ لڳݨ نال ݙو بندے جاں بحق تے ہک زخمی
saraikinews Jan 27, 2026
finance
اسلام آباد
ملکی معیشت مالی سال 2026 اچ ترقی دی رفتار برقرار رکھݨ کیتے موزوں پوزیشن اچ اے، ایں مہینے اچ مہنگائی 5 توں 6 فیصد دی حد اچ رہسی، وزارتِ خزانہ
saraikinews Jan 27, 2026
ali asif
اسلام آباد
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نال آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین دی ملاقات
saraikinews Jan 27, 2026
atta tarar
اسلام آباد
ضلع خیبر دے قبائل سیالے اچ نقل مکانی کریندے رہندن، کے پی حکومت دے ترجمان ایندے تے بے بنیاد بیان ݙیندن، عطاء اللہ تارڑ
saraikinews Jan 27, 2026

Copyright © 2026 | Powered by WordPress | Frankfurt News by ThemeArile

  • About us
  • About Us
  • Services
  • Privacy Policy
  • Careers
    • Portfolio
    • Support
  • DMCA
  • Join Us
  • Contact Us
  • FAQ