Skip to content
  • Tuesday, 10 February 2026
  • 10:26 pm
  • Follow Us
saraikinews
  • صفحہ اول
  • قومی
    • کراچی
    • اسلام آباد
    • لاہور
  • دنیا
  • مضمون
    • فیصل شہزاد چغتائی
    • پروفیسر اللہ دتہ قادری
    • پروفیسر اللہ ݙتہ
    • شہزاد حسین بھٹی
  • ٹیکنالوجی
  • کھیڈ
  • شوبز
  • کاروبار
  • About us
    • Privacy Policy
    • Contact Us
    • DMCA
    • Join Us
  • رابطہ
  • Home
  • بچے باہر بھی غیر محفوظ اور اندر بھی
تجزیات

بچے باہر بھی غیر محفوظ اور اندر بھی

saraikinews Jan 11, 2018 0

(وسعت اللہ خان)

بالاخر ڈھائی ماہ بعد قصور میں بچوں سے طویل عرصے تک جنسی زیادتی اور ان کی ویڈیوز بنا کر پھیلانے اور ان کے اہلِ خانہ کو بلیک میل کر کے پیسے اینٹھنے کی تحقیقات کے لیے قائم جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو رپورٹ پیش کر دی ہے۔ اس بابت پچیس ملزموں کے چالان پیش کیے گئے ہیں۔

اس دوران بچوں سے جنسی زیادتی کا ایک وکھری ٹائپ کا اسکینڈل پشاور سینٹرل جیل سے باہر آ گیا۔ وہاں ایک قیدی بچے نے مجسٹریٹ کے روبرو زبان کھول دی کہ جیل اہلکار عادی مجرموں کو پیسے کے عوض بچے پیش کرتے ہیں۔ مجھے چکی (سخت سزا والے مجرموں کی بیرک کے لیے جیل اصطلاح) کے نمبردار اور ساتھ کے سپاہیوں نے چھ ہزار روپے میں قیدی نمبر پچھتر کے حوالے کیا۔ بہت سے بچوں کے ساتھ یہ ہو رہا ہے مگر تشدد کے خوف سے کوئی زبان نہیں کھولتا۔ ۔ ۔

جب میڈیا میں یہ خبر پھوٹی تو خیبر پختون خوا کی حکومت نے بھی اسکینڈل کی تحقیقات کی ٹھانی۔ مگر تحقیقات سے زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ اس کا اندازہ چھان پھٹک شروع ہونے سے پہلے ہی وزیرِ اعلی پرویز خٹک کے مشیرِ جیل خانہ جات قاسم خان خٹک کے اس بیان سے ہو سکتا ہے کہ جیلوں میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ جس شخص نے الزام لگایا ہے وہ جووینائل قیدی نہیں بلکہ اس کی عمر اکیس سال ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گویا خٹک صاحب کے لیے واقعہ سے زیادہ اہم قیدی کی عمر ہے۔ پشاور جیل میں اس وقت ایک سو پانچ قیدی ہیں جن کی عمر اٹھارہ برس سے کم ہے۔ ان میں سے صرف دس بچے ایسے ہیں جن کا جرم ثابت ہو چکا ہے باقی پچانوے کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ پورے خیبر پختون خوا میں اس وقت تین سو چالیس نو عمر قیدی ہیں۔

ان میں سے ستائیس مجرم قرار پائے ہیں باقی فیصلے کے منتظر ہیں۔ مگر جب صوبائی مشیرِ جیل خانہ جات سے پوچھا گیا کہ اس وقت صوبے میں کتنے بچے جیلوں میں ہیں تو ان کا جواب تھا ’’ مجھے درست تعداد تو نہیں معلوم لیکن یہی کوئی چار پانچ سو تو ہوں گے ’’۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پشاور جیل کے عملے کے خلاف فوری ایکشن کیا لیا گیا ہے تو قاسم خٹک نے فرمایا کہ وہ ’’ انڈر آبزرویشن ’’ ہیں۔ یعنی ان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ کون نگرانی کر رہا ہے؟ کیا وہ اب بھی جیل کے اندر فرائض انجام دے رہے ہیں؟ اس کی کوئی وضاحت نہیں ہو پائی۔

اس وقت خیبر پختون خوا میں بھی ملک کی بیشتر جیلوں کی طرح کم سن قیدی بظاہر بڑے قیدیوں سے علیحدہ بیرکوں میں رکھے جاتے ہیں جنھیں جیل کی زبان میں بچہ خانہ کہا جاتا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی سابق صوبائی حکومت نے دو ہزار بارہ میں قیدی بچوں کی رہائش و سہولیات سے متعلق قانون اسمبلی سے منظور کروایا۔ بنوں میں ایک بورسٹل جیل تعمیر ہوئی، ہری پور میں بھی اس مقصد کے لیے عمارت تعمیر ہوئی مگر تین برس گزرنے کے باوجود دونوں مراکز آپریشنل نہیں ہو سکے۔

اس وقت پاکستان میں نوے کے لگ بھگ جیلیں ہیں۔ لیکن بچوں کے لیے خصوصی جیلوں کی تعداد چھ ہے۔ یعنی دو سندھ میں اور چار پنجاب میں۔ سات سے اٹھارہ برس کے تقریباً اسی ہزار نوعمروں پر مختلف الزامات میں مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ ان میں سے چودہ سو کے لگ بھگ بچے جیلوں میں قید ہیں مگر نوے فیصد پر جرم ثابت ہونا باقی ہے۔

جیلوں میں دو طرح کے بچے نظربند ہیں۔ ایک وہ جن کی مائیں قیدی ہیں اور وہ کم سنی کے سبب ان کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔ دیگر وہ جو کسی نہ کسی الزام میں جیل بھیجے گئے۔ اٹھارہ برس سے کم عمر کی کچھ بچیاں بھی جیل میں ہیں لیکن ان کے لیے لڑکوں کے برعکس علیحدہ سہولتیں نہیں بلکہ وہ بڑی عمر کی قیدی عورتوں کی بیرکس میں ہی رکھی جاتی ہیں۔

پاکستان میں جووئنائل جسٹس سسٹم آرڈیننس سن دو ہزار سے نافذ ہے۔ اس قانون کے تحت اٹھارہ برس سے کم عمر کے ملزم کی گرفتاری کے بعد ملزم کے ورثا کو بتانا ضروری ہے۔ ملزم کو گرفتاری کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر جووئنائل عدالت یا مجاز مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنا ضروری ہے۔ پاکستان میں اس وقت جووینائل عدالتیں کتنی ہیں؟ ( یہ فقیر اس بارے میں طالبِ مدد ہے)۔ جووینائیل آرڈیننس کے تحت نو عمر قیدیوں کو بالغ قیدیوں کے ساتھ نہیں رکھا جا سکتا۔

ترجیحاتی طور پر انھیں بچہ جیل یا مرکزِ اصلاح میں رکھا جانا چاہیے۔ مگر عملی صورتِ حال یہ ہے کہ جن علیحدہ بیرکوں میں نو عمروں کو رکھا جاتا ہے وہاں کھیل کود اور تعلیمی سہولتیں ندارد (سوائے گنتی کی چند جیلوں کے)۔ ان پر جسمانی و ذہنی تشدد نہیں کیا جا سکتا نہ ہی مقدمے کا فیصلہ ہونے تک مشقت لی جا سکتی ہے (مگر یہ سب ہوتا ہے)۔

پاکستان جیسے ممالک میں جیل ایک علیحدہ ریاست ہے۔ اس کا بادشاہ داروغہ اور کابینہ مددگار عملہ ہے۔ بطور آئین انگریزی دور کا جیل مینوئیل اور اس میں آزادی کے بعد کی گئی ترامیم بھی موجود ہیں۔ لیکن عملی قانون ’’اوپر آسمان نیچے جیلر‘‘ کے اصول پر نافذ ہے (اس موضوع پر درجنوں پنجابی فلمیں بن چکی ہیں)۔ اگر آپ مفلوک الحال بھی ہیں اور بدقسمتی سے جرم بھی کر بیٹھے ہیں تو پھر آپ کا اللہ حافظ ہے۔ اگر آپ خوشحال اور طاقتور ہیں تو پھر جیل بھی ریل ہے بلکہ ریل پیل ہے۔

آپ اپنا دربار سجا سکتے ہیں۔ جیل کا عملہ آپ کا دربان ہو گا۔ نوٹوں کی کیاری کو ہر کوئی پانی دیتا ہے۔ جی چاہے تو ڈائٹنگ کیجیئے نہ چاہے تو بہترین کھانا منگوائیے خود بھی کھائیے درباریوں اور نادار قیدیوں کو بھی بانٹئے اور ظالم و مظلوم کی دعائیں لیجیے۔ ایک وقت میں ایک ملاقات کی پابندی تو کنگلے مجرموں کے لیے ہے۔ آپ کے ملاقاتی کون گن رہا ہے۔ دل چاہے تو اپنی بیرک میں کرسیاں ڈلوا لیں، جی چاہے تو جیلر کے کمرے میں چائے بسکٹ کے اوپر مل لیں۔ موبائیل فون حاضر! چرس اور شراب حاضر! اور خواتین؟

کیا بات ہو رہی تھی اور کہاں نکل گیا۔ پنجاب کے ایک سابق آئی جی جیل خانہ جات پرویز راجپوت کہتے ہیں کہ قیدی بچوں پر تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات ہر جیل میں ہوتے ہیں مگر اکثر جیلوں کا نظام ’’نہ بتاؤ نہ پوچھو‘‘ کے اصول پر چلتا ہے۔ بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ایک تنظیم اسپارک کے سربراہ انیس جیلانی کے بقول جیل ایک بند جگہ ہوتی ہے لہذا وہاں ایسے واقعات کی آزادانہ تحقیق بہت مشکل ہے۔ جو بھی معلومات حاصل ہوتی ہیں وہ جیل عملے کی چھلنی سے گزرتی ہیں۔

شاز و نادر ہی ہوتا ہے کہ کوئی خبر چھلنی سے گر پڑے اور آپ کے علم میں آ جائے۔ پشاور جیل سے آنے والی خبر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ انیس جیلانی بتاتے ہیں کہ چند برس قبل حیدرآباد ڈسٹرکٹ جیل میں نئے نئے تعینات ہونے والے ایک جیلر نے بچوں سے جنسی زیادتی کا نوٹس لینا شروع کیا اور دیگر اصلاحات پر بھی توجہ دی تو قیدیوں نے بغاوت کر دی۔ ان کے بقول سکھر جیل کے ایک ہنگامے کے پیچھے بھی ایسے ہی اسباب تھے۔

قصہ مختصر بچے جیل سے باہر ہوں تو قصور کے سے مگر مچھ منڈلا رہے ہیں اور جیل میں ہوں تو قیدی نمبر پچھتر ان کی تاک میں ہے۔بشکریہ ہم سب نیوز

نظامِ دہر ترے اختیار میں ہے مگر!
میں سوچتا ہوں کہ تو کس کے اختیار میں ہے؟

saraikinews

Website:

Related Story
تجزیات فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
وینڊے وینڊے کھل لاھی ونجوں
saraikinews Feb 1, 2018
تجزیات
میڈیکل تعلیم کا معیار صرف پیسہ
saraikinews Jan 30, 2018
تجزیات
دیرہ اسماعیل خان دا ٹائی ٹینک ۔ ایس ایس جھلیم مرحوم
saraikinews Jan 26, 2018
تجزیات
اسلامی سزائوں کا نفاذ۔۔۔ناگزیر
saraikinews Jan 15, 2018
تجزیات صفحہ اول فیصل شہزاد چغتائی مضمون
پاکستان میں چلنے والے انڈین چینلز سیکس کی تربیت دے رہے ھیں
saraikinews Jan 12, 2018
تجزیات شہزاد حسین بھٹی
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان خفیہ معاہدہ
saraikinews Jan 10, 2018
تجزیات
آئی ایس آئی تجھے سلام
saraikinews Jan 8, 2018
تجزیات شہزاد حسین بھٹی
میاں محمد بخش سے َمنسوب شاعری
saraikinews Nov 30, 2017
تجزیات شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
دَرس گاہ کا نوحہ
saraikinews Nov 16, 2017
saraikistan
تجزیات فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
پاکستان اچ مزید صوبے بنڑن تعصب کینی ترقی دی خاطر ھن
saraikinews Nov 4, 2017
تجزیات فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
آئی ایم ایف سے گزشتہ 10 سالوں میں لیا جانیوالا 49 بلین ڈالر کا قرضہ کہاں گیا؟
saraikinews Sep 6, 2017
تجزیات فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
غلطی سازش یا انڈسٹری ختم کرنیکی سازش
saraikinews Mar 11, 2017
تجزیات صفحہ اول فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
سرائیکی مخلص اور امن پسند قوم ہیں
saraikinews Feb 21, 2017
تجزیات شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
نمائیندے یا لفنگے
saraikinews Jan 25, 2017
article
تجزیات شہزاد حسین بھٹی مضمون
دلوں کی حکمرانی اور قرضہ معافی
saraikinews Jan 11, 2017
کالم فیصل شہزاد چغتائی
تجزیات فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
غیور سرائیکی خطے ڊءِ حق ڊی آواز سرائیکستان ھِ
saraikinews Dec 31, 2016
آرٹیکل فیصل شہزاد چغتائی
تجزیات فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
تنقید دی وبا وسیب کوں سیوی وانگوں کھادی ویندی ھِ
saraikinews Dec 31, 2016
آواز سرائیکی
تجزیات فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
تحریکیں ہمیشہ کسی بھی مخصوص خطے پر رہنے والوں کے مفادات کے لیے آواز اٹھانے کے لیے ہوتی ہیں
saraikinews Dec 31, 2016
سرائیکی کیا منگدن
تجزیات فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
سرائیکی کیا منگدن؟
saraikinews Dec 31, 2016
تجزیات فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
سوچ تِ جدوجہد ڈو منفرد رستے ہن
saraikinews Dec 31, 2016
saraiki ask for rights article
تجزیات فیصل شہزاد چغتائی مضامین مضمون
دنیا میں رہ کہ دنیا کو تلاش کرتا ہوں
saraikinews Dec 31, 2016

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

YOU MAY HAVE MISSED
muzafarghar
مظفرگڑھ
مظفرڳڑھ: شوگر مل اچ بھاہ لڳݨ نال ݙو بندے جاں بحق تے ہک زخمی
saraikinews Jan 27, 2026
finance
اسلام آباد
ملکی معیشت مالی سال 2026 اچ ترقی دی رفتار برقرار رکھݨ کیتے موزوں پوزیشن اچ اے، ایں مہینے اچ مہنگائی 5 توں 6 فیصد دی حد اچ رہسی، وزارتِ خزانہ
saraikinews Jan 27, 2026
ali asif
اسلام آباد
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نال آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین دی ملاقات
saraikinews Jan 27, 2026
atta tarar
اسلام آباد
ضلع خیبر دے قبائل سیالے اچ نقل مکانی کریندے رہندن، کے پی حکومت دے ترجمان ایندے تے بے بنیاد بیان ݙیندن، عطاء اللہ تارڑ
saraikinews Jan 27, 2026

Copyright © 2026 | Powered by WordPress | Frankfurt News by ThemeArile

  • About us
  • About Us
  • Services
  • Privacy Policy
  • Careers
    • Portfolio
    • Support
  • DMCA
  • Join Us
  • Contact Us
  • FAQ