دنیا میں رہ کہ دنیا کو تلاش کرتا ہوں

0
572
saraiki ask for rights article

ایک خود کفیل قوم سے میرا تعلق ہے ایسی قوم جو صدیوں سے اپنی محنت سے زندہ ہے اور ہر جگہ اس کی محنت کے نشان ملتے ہیں چاہے ایران ہو، افغانستان ہو یا پاکستان ہو.. سبھ جگہ اس قوم کے ھنر مبد ھونے کا ثبوت دیتے ہیں… گزشتہ چند سالوں سے اس قوم میں کالی بھیڑوں نے جگہ بنا کہ یہاں کا رھن سہن اوڑھنا پہننا اور بولنا سیکھ کہ اس کی قوم کی غلط عکاسی دنیا تک پہنچائی اور اب تک پہنچا رہی ہے. مجھے اب بھی یاد ہے کہ ہمارے گھر کی خواتین چاھے ماں ہو بہن ھو یا بیٹی گھر سے باھر اجازت کے بغیر نا نکلتی تھی پردہ ہمیشہ سے خوبصورتی رہا ھے ایسی قوم جس کے گھر میں پردے کی پابندی زور زبردستی نا ھو بلکہ وہ خود اپنی خوشی سے اپنے بڑوں کی عزت کے لیے مہینوں گھروں سے باھر نا جائیں ایسی قوم درس اسلام کی پابند ہے جو دین رسول اللہ اور نوسہ رسول سے سینہ بہ سینہ ھمارے بزرگوں اور بزرگوں سے ہم تک پہنچا وہ درس امن،. محبت، بھائی چارے کا درس ہے احساس کا درس ہےـ صبر سے کام لینا دکھ درد میں سب کے کام آنا مشکل میں یکجا ہو جانا یہ سب ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے اور الحمداللہ ہماری قوم کے فرد علماء،. عالم،. مہتمم،. مفتی،. قاری،. اور نعت خواں سینوں میں قرآن لیے دنیا میں دین کا پیغام پھیلانے میں رات دن مشغول ہیں….
جس طرح ہر قعم امن کی متلاشی ہے اسی طرح ہم بھی ہیں اور محبت کا پیغام پہنچانے میں اپنی خدمات فی سبیل اللہ انجام دیتے رہتے ہیں. صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے سب سے حسن اخلاق سے پیش آتے ہیں اور حقوق العباد ادا کرنے میں اولین صف میں رہتے ہیں. صابر قوم کا حصہ ہیں صبر کرنے والے ہیں لیکن بزدل نہیں اور نا ہی کمزور ہیں اور نا ہی غریب ہیں ہماری نسلیں در نسلیں حق ادا کرتی چلی آ رہی ھیں سب کوں سینے سے لگاتی چلی آ رہی ہیں کیونکہ جو بزرگوں نے درس دیا وہی درس ہم آگے تک پھیلا رہے ہیں. آج ہمیں نفرت کی نگاہ سے دیکھنے والوں سے اتنا کہوں گا کہ ہماری محنتوں کے ثمر یہ آپ کے عالیشان گھر ہیں، یہ فیکٹریاں ہیں، یہ تجارت کا پہیہ چل رہا ہے ہمیں فخر ہے ملک پاکستان کی ترقی میں ہماری محنتیں ہر شعبے میں صف اول پر ہیں مگر دکھ اس بات کا ہے اس قوم کی غلط عکاسی آپ تک پہنچ رہی ہے. جو اصل خوبیاں ہیں وہ دین کے عین مطابق ہیں وہ جو اصول ہیں میرے رسول اللہ کے احسن سلوک کا درس ہیں جو پیروں فقیروں اور ولیوں کے صدقے ہماری جھولیوں میں خیرات کی صورت ملا اور یہ خیرات بھی نصیب والوں کو ملتی ہے. پاکستان کا خواب مسلسل مسلمانوں پو ہونے والی ذیادتیوں،. انتہا پسند ھندووں کی وجہ سے دیکھا گیا آج پاکستان میں رہ کر ہمیں فخر ہے کہ ہم پاکستان کا حصہ ہیں اور الحمداللہ مسلمان ہیں.
آخر اتنے سالوں کے بعد ایک لفظ سرائیکی زھر جیسا کیوں لگ رہا ہے… یہ حیرت کی بات ہے… یہ جو خوبیاں میں نے جس قوم کی بیان کیں وی قوم سرائیکی ہے جس کی زبان سرائیکی ہے. سرائیکی در حقیقت پیغام امن ہے اور اپنائیت اور مہمان نواز قوم ہے پھیر کیوں پورے پاکستان کی مٹی دھول اور کچرا اس پر انڈیلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں…؟ اس قوم کا گناہ ہے یا حق ہے..؟ جب تکلیفیں حد سے بڑھ جائیں تو آہ نکلتی ہے اور جب کوئی دادرسی نا کرے تو لوگ نکلتے ہیں اور یہ لوگ اس تکلیف درد کی پیداوار ہیں جو ھر حکومت میں صرف کھینچا تانی کے لیے یا ووٹ کی بھرت ڈالنے کے لیے استعمال ھوتے رہے ہیں اور اب تک استعمال ہو رہے ہیں..ھر دکھ کا علاج ہوتا ہے…اس تکلیف کے لیے دوا کی ضرورت ھوتی ہے یہ نہیں کہ ڈنڈے دیکھا کہ ڈرا دھمکا کہ یہ کہہ دیا جائے کہ بیمار ہئے تو ماروں گا، بہتر انداز جو کہ انسانیت بھی کھلاتا ہے وہ یہ ہے کہ دوائی سے بیمار کا علاج کیا جائے… یہ ابھرنے والا لفظ سرائیکی حد سے بڑھ جانے والے درد کی پیداوار ہے. اس کے عوام کی اپنے سرائیکی خطے سے لازوال محبتیں نا فراموش ہیں اپنی زمین کی خوشبو اپنا لباس اپنی ذات اس خطے میں ضم کر دی ہے اس لیے تو اب نسبت اس خطے سے ہم سب کوں سرائیکی بنائے ہوے ہے جس طرح اجمیر میں رہنے والے اجمیری گیلان میں رہنے والے گیلانی اور جیلان میں رہنے والے جیلانی کہلائے… علاقے سے محبت کی نسبت میں خود کو سرائیکی کہلوانا کوئی گناہ نہیں سب اپنے گھر سے محبت کرتے ہیں سب کو پیار ہوتا ہے اپنے علاقے سے، اب جبکہ اظہار کرنا چاہ رہے ہیں تب سب کوں تعصب لگ رہے ہیں..؟ جب تک اظہار نا تھا سب خاموش تھے اب جو درد حد سے بڑھ کر لفظ سرائیکی بن چکا ہے تب اس کا علاج بھی ضروری ہے اور علاج جھوٹی تسلیاں اور وعدوں جیسا نہیں یا ڈرا دھمکا کر چپ رکھنے والا نہیں اس مرض کا علاج دوا سے ممکن ہے اور اس قوم کے علاج کی دوا اس کی ماں دھرتی جس پر ان کی نسلیں پیدا ہوئیں اسے ایک نام چاہیے یہ نام اس کی دوا ہے اس سرائیکی خطے کو نام سرائیکستان چاہیے جو کہ حق بھی بنتا ہے اور علاج کی بہتر دوا ہے ہمیشہ بیماری کا بروقت علاج کر لیا جائے تو بہتر ہوتا ہے ورنہ یہ بیماری جان پر آن پہنچتی ہے اس خطے پر ہونے والی ذیادتیاں،. حق تلفیاں اور فرضی مہنگائی،. تعلیم کی عدم دستیابی ہماری نسلوں کوں مزید جہالت میں دھکیل رہے ہیں اب جبکہ اس خطے سے جڑا فرد سمجھدار اور باشعور ہے ڈرا دھمکا کہ چپ کروانا یا ڈنڈا پالیسی سے سنبلنے والے نہیں… مال غنیمت نہیں ہمیں پاکستانی ھونے کا حق دیا جائے تاکہ ہم اپنی ماں دھرتی سرائیکی خطہ کو سنوار سکیں، تعلیم دے سکیں،. مفلسوں کی مدد کر سکیں یہاں کے عوام کو معاشی طور پر مستحکم کر سکیں… جس جدید دور اور ترقی کے دعوے آپ کر رہے ہیں ہم ابھی تک پرانے وقتوں کی سہولتوں سے اپنی زندگیاں بسر کر رہے ہیں ہماری قوم کے لیے لائٹوں کا شہر آج بھی کراچی ہے بڑے بڑے اسپتال،. پاتک تفریحی مقامات سب بڑے شہروں میں… صاحب ہم بھی انسان ہیں زبان صرف رابطے کے لیے ہوتی ہے ہم ہر زبان محبت سے بولتے ہیں لیکن ہمارا وجود تسلیم کرتے ہوت ہمیں اقلیت نہیں ہمیں پاکستانی سمجھا جائے… ہمارا ووٹ تو آپ کی جاگیر ہے لیکن ہم آپ کے نہیں….پاکستان کو بنانے والے قوم کے فرد اب اپنے خطہ کی خوبصورتی چاہتے ہیں.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.