نکلتا غریب سے ہی ہے صاحب

0
1839

تحریر: فیصل شہزاد چغتائی

جتنے دورِ جمہوریت پاکستان میں گزرے جتنی پارٹیوں نے الیکشن سے قبل دعوے کیئے وہ تمام کے تمام دھرے کے دھرے رہ گئے ، خواہشات در خواہشات ، خواب در خواب دیکھا کر قوم کو یکے بعد دیگرے دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا ، ان کے ایک ووٹ سے انہیں پر بادشاہت کی اسٹمپ لگائیں گئیں کسی کی شناخت کسی کی زبان اور کسی کا زر اور کسی کے بچوں کے مستقبل سے کھیلا گیا۔ ہرمنتخب جانیوالی حکومت ملک کو کنگال کر کے گئی ۔ آنیوالی حکومت نے کنگال کرنے کے لیے نئے کھانچوں کی جدوجہد کی اور کسی سے قرض لیا ، کسی سےاضافی ٹیکسوں کی مد میں رقم بٹوری اور پھر آنیوالی اور جانیوالی دونوں جمہورتیں ڈیفالٹر ہو گئیں مگر پھر بھی الیکشن آف کمیشن نے انہیں الیکشن لڑے کا اختیار دیا۔ نواز شریف کا ملک سے بدر ہو جانا سزا پانا اور پھر سزا کاٹ کر پھر واپسی آ کر منتخب ہونا ، آصئیہ کا توہین رسالت کی سزا سے بازیاب ہونا،غرض یہ کہ ارب کھربوں کھا کر وقت کا طول میں ڈال دیا گیا اس کے بعد معاملہ رفع دفع کیونکہ ہم لوگ حد چالیس دن سے زیادہ کسی واقعے کو یاد نہیں رکھتے جو اے پی ایس حادثہ ہوا آج بھی اس بارے سوچا جائے تو ضمیر لرز جاتا ہے اس کے سزا وار کو پروٹیکشن قید میں رکھنا اور سچے عاشق رسول کو راتوں رات پھانسی پر لگا دینا ، دو طرفہ قانون رہا ہے۔ اور چل رہا ہے ۔ آج اگر کسی غریب کا بچہ پیٹ کی بھوک مٹانے کے لیے کسی ریڑھی ہوٹل سے اگر کچھ اٹھا کر کھا لیتا ہے تو اسے چور چور کہہ کر سارا شہر مارنے کو دوڑ اُٹھتا ہے اور پولیس ادارے تمام ایمانداری سے اسے قید کرتے ہیں اور پھر وہی بچہ ملیر بچہ جیل میں ٧ سال اور عمر قید کی سزائیں کاٹ رہے ہوتے ہیں ۔ دوسری طرف شارخ جتوئی ایسے بااثر لوگ بہت آسانی سے قتل کرتے ہیں اور پیسہ کھلا کر اپیلیں کروا کر اپنی پھانسی کی سزائیں معطل کروا لیتے ہیں اور معاملہ ٹھنڈا ہونے کے بعد رزلٹ جو نکلے گا وہ سب کے سامنے آئے گا ،عوام کبھی اس پارٹی کبھی اُس پارٹی کبھی نئی پارٹی اور کبھی انصاف کی پارٹی کی طرف دیکھتے رہ گئے ۔ صد ھا افسوس کہ اب تک انصاف نا ملا ھاں اگر ملا تو نئے نئے ٹیکسوں کا عذاب ۔ ٹیکس اداروں پر لگائے جاتے ہیں جمہوریت میں رہ کر قراردادیں پاس کروانے والے اور ہم مر گئے کچھ مل نہیں رھا الیکشن پر کروڑوں کی انویسٹ منٹ لگا کر کمائی کی غرض سے کنگال ہونیوالے سیاست دان کمائیوں کے در بند ہونے پر چیختے ہیں آہ کہ کوئی قرار داد غریب کے لیے پاس نہیں ہوتی ۔ جو ٹیکس گیس ، بجلی ، پانی ،موبائل کمپنیوں ، ملٹی نیشنل کمپنیوں پر لگائے جاتے ہیں وہ ٹیکس یہ تمام ادارے گھما پھیرا کر غریبوں کے گلے میں ڈال دیتے ہیں کیونکہ ایک واحد یہ غریب طبقہ ہے جو ہر دور میں محتاجی مفلسی کا رونا روتا رہا ہے اور رو رہا ہے ۔ کیونکہ اس نے زندہ رہنے کے لیے تمام روز مرہ استعمال ہونیوالی اشیاء خریدنی ہیں جن پر ٢٠ سے ٣٠ فیصد ٹیکس ادا لازمی کرنا ہے اس نے دکھ سکھ میں بات کرنی ہے تب بھی ٢٥ سے ٣٠ روپے ٹیکس ادا کرنا ہے ، کھانا پکانا ، اوڑھنا ، بچھونا تمام کا تمام ٹیکس بہت سارے حصوں میں غریب کے گلے میں آن پڑتا ہے اور غریب اپنے اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لیے ١٨ گھنٹوں تک مشقت کرتا ہے اور اس سے ملنے والے اجرت گیس ، بجلی ، پانی اور روزہ مرہ استعمال ہونیوالی اجناس کی خریداری میں ٹیکس ادا کر دیتا ہے۔ ایک مزدور جو ١٥ سے ٢٠ ھزار کما رہا ہے وہ گھر کا کرایہ ١٠ سے ١٥ ہزار ادا ر رہا ہے تو اسے اپنے بچوں کی تعلیم ، ان کی صحت ان کو اچھا رھن سہن دینے کے لیے مزید ٨ گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر اوور ٹائم سے ملنے والے ٥ یا ١٠ ھزار سے وہ اپنی بچوں کو دو وقت کی روٹی کپڑے اورسرکاری سکولوں میں داخل کروانے کے قابل ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں ہمیشہ سے ہی غریب کے نام پر کھایا جاتا رہا ہے اور اب تک کھایا جا رہاہے بہت سی ویلفیئر آرگنائزیشن جو صرف بچوں کی تعلیم کے نام ڈونیشن پر چل رہی ہیں وہ پیسہ بٹور کے اپنا لائف اسٹائل مزید بہتر سے بہتر کرتی جا رہی ہیں چاہئے وہ ٹی سی ایف ہو ، احساس ویلفیئر ہو ، سیرانی ہو یا اور ادارہ تمام کے تمام اپنی چھریاں چاکو تیز کر کے بیٹھے ہیں ۔ اگر کوئی غریب اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے ان اداروں سے رابطہ بھی کرے تو بھول جائیں کہ اس کے بچوں کا داخلہ ممکن ہو گا ہزاروں ھیلے اور بہانے بنا کر انہیں نو دو گیارہ کر دیا جاتا ہے ھاں تعلقات والے لوگوں کے بچوں کے بہتر مستقبل ہیں کیونکہ ان کی سنی جاتی ہے انہیں عزت دیجاتی ہے ، سفید پوش لوگ اپنی سفید پوشی میں اورغریب اپنی غربت میں مر جاتے ہیں مگر اپنے بچوں کو بہتر مستقبل نہیں دے سکتا صرف ان کے زندہ رہنے کا سامان ہے مہیا کر سکتے ہیں او روہ بھی اس وقت تک جب تک اس کی جان میں جان ہے بعد مرنے کے وہ خاندان سڑکوں پر بھیک مانگتے گھروں میں کام کرتے ملتے ھیں اور ہمارا گندہ معاشرہ ان گھروں میں کام کرنے والوں کو عیاشی اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور انہیں جانوروں سے بھی بدتر سمجھتا ہے ۔ عام آدمی ہر پارٹی پر اپنا بھروسہ رکھتا ہے اور ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ جس پارٹی کو ووٹ دیا وہ اپنے وعدے پورے کرے مگرجب اسی کے ووٹ سے پارٹی منتخب ہو کر طوطا چشم ہو جائے تو وہ غریب دعا نہیں اس کی دعا بددعاوں میں بدل ہی جایا کرتی ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو ، گیس کے بلوں میں اضافہ ہو تمام بوجھ آخر کار غریب پر ھی آن پڑتا ہے، اچھی زندگی گزارنے والا ہائی کلاس پڑھا لکھا طبقہ اس سے متاثر اس لیے نہیں ہوتا کیونکہ ان کی تنخواہیں ہی ٥٠ ھزار سے شروع ہوتی ہیں اور ٢ لاکھ ٣ لاکھ روپے تک جاتی ہیں انہیں آلو ، چینی ، پتی اور کرائیے جیسے معاملات کی کوئی فکر نہیں ہوتی ان کا مقصد صرف لائف اسٹائل کو قائم و دائم رکھنا ہوتا ہے اچھے سے اچھے بنگلوں میں رہنا ہوتا ہے ان کا کرایہ لاکھوں روپے ادا کرنا ہوتا ہےان کے لیے ملک میں مہنگائی آئے جائے انہیں کوئی فکر نہیں ۔۔۔ فکر صرف ان لوگوں کو ہوتی ہے جو روزگار کی نیت سے صبح نکلتے ہیں کسی کے ہاتھ میں بیلچہ ہوتا ہے کسی کے ہاتھ میں پیچکس پلاس ہوتا ہے ۔۔ کسی کے کندھے پر اوزاروں کا بھاری بیگ ہوتا ہے وہ تمام کسی نا کسی شہر کے چوک میں آ کراپنے بچوں کے لیے روزگار کمانے آ کھڑے ہو کر آتے جاتے لوگوں کی طرف سوالیہ نظروں سے سوال کرتے ہیں کہ ہے کوئی جو ہمیں روزگار دے کوئی ہمیں اتنی اجرت دے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے روٹی لے کر جا سکیں ۔ مگر اتنا کم ظرف معاشرہ ہو گیا ہے کہ نظریں پھیر کو راستہ بدل کر چلا جاتا ہے ان کی طرف کوئی نہیں دیکھتا، کراچی ایسے شہروں میں بچت بازار عرصہ دراز سے لگ رہے ہیں جن کے ذریعے ھزاروں لاکھوں خاندان اپنے گھروں کا گزر بسر کر رہے تھےوہ اب سارا دن گلیوں میں ادھر ادھر پولیس کے جانے کا انتظار کرتے ہیں جب پولیس ادھر ادھر ہو جائے تو پھر سب ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور بچوں کا روزگار کماتے ہیں ۔ جمہوریت میں بیٹھے اعلی عہدوں کے سفیروں کو یہ نظر نہیں آتا کہ ماہ رمضان میں مقامی پولیس ان بچت بازار میں ریڑھیاں لگانے والی فی ریڑھی سے ٥٠٠ روپے تک بھتہ وصول کر رہے ھیں ۔ کیا انہیں نظر نہیں آتاکہ کسی جب کوئی غریب گھر کی چھت ڈالنے کے لیے جاتا ہے تو تین تھانے جو ان سے ملحقہ ہوتے ہیں اپنی اپنی باری پر آتے اورسرعام بھتہ وصول کرتے ہیں نا دینے پر ان غریبوں کیساتھ کیا ہوتا ہے کسی کے علم میں نہیں ؟ ایک طرف تو رعائیتوں کا سلسلہ ہے اور دوسری طرف ظلم کے پہاڑ ۔۔۔ ادارہ کوئی بھی ہو جمہوریت کی عکاسی کرتا ہے اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے اگرلوگ آج تحریک انصا ف کو کامیاب کروانے کے بعد بھی انصاف تلاش کرتے ہیں تو پھر انصاف کون دے گا۔۔۔ کیا جمہوریت میں بیٹھے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ منہ دھونے والے صابن پر ٹیکس ٢٠ سے ٣٠ روپے ایک غریب ادا کرتا ہے ۔ جونمک ٢ روپے ٥ روپے ملتا تھا آج وہ نمک ٣٥ روپے مل رہا ہے اور غریب کی اجرت آہ پچھلے ٣٥ سالوں سے ١٠ سے ١٥ تک ہی محدود ہے ۔ نو منتخب حکومت نے عوام کے منہ پر پی ٹی آئی کی زیپ لگا دی ہے کب تک عوام چپ رہیگی َ ڈالر پی پی دور میں ٩٨ لیگی دور میں ١٠٦ اور اب ١٤٨ سے تجاوز کر چکا ہے ۔ آئی ایم ایف جیسا کہیں گی ہم ویسا ناچ دیکھائیں گے ویسا ناچیں گے اور اس کے نام کا ورد رکھیں گے ۔ کیونکہ دینے والے عوام ہیں ۔۔۔ کوئی بھی لیڈر ہو سب سے پہلے اپنے قوم کا معیار زندگی بہتر بنانے کے بارے سوچتا ہے ان کے بنیادی مسائل ان کا رہن سہن کھانا پینا ، ان کی صحت ، ان کے بچوں کے مستقبل ، غرض یہ کہ قوم کا ہر دکھ درد اس لیڈر کا اپنا دکھ درد ہوتا ہے کیا خان صاحب کو درد نہیں ہوتا جب قوم خالی پیٹ سوتی ہے اس پیٹ خالی محسوس نہیں ہوتا جب بچے بھوک سے کبھی ماں اور کبھی باپ کی طرف دیکھتے ہیں تب یہ کیفیت ان تک نہیں پہنچتی ۔۔۔ مائیں جو بچوں کو پیدا کرتے کرتے ہسپتالوں میں جگہ نا ہونے کی وجہ سے جانیں گنوا دیتی ہیں انہیں تکلیف نہیں ہوتی ۔۔۔؟ کیسے لیڈر ہیں ۔۔۔ کہ احساس نہیں ہوتا ۔۔۔ آئی ایم ایف سے قرض لے کر ہم مزید مقروض ہو گئے یہ احساس کب ہوگا ۔۔۔قوم نے ووٹ دیا منتخب کیا ایک صرف ایک بیان ہوتا قوم کیساتھ کہ مجھے مدد چاہئے مجھے قرض نہیں چاہئے تو کیا قوم جو اب اتنے ٹیکس ادا کر رہے ہے وہ مدد نہیں کرتی؟ جو ڈیم کے لیے ١١ بلین روپے کی امداد کر سکتی ہے تو ٹیکس کی مد میں وصول ہونیوالے رقم سے بھی قوم اپنا ملک بنے اور سنوارنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔ اس کے لیے آئی ایم ایف کے در پر نہیں غریبوں کے دلوں پر دستک دینے کی ضرورت ہوتی ہے ایک اچھا لیڈر اعتماد میں سب کو لے کر چلتا ہے نوکریاں نوجوانوں کے لیے دور جو پہلے سے روزگار کر رہے تھے وہ سب بے روزگار ہو گئے حالات مزید بد سے بد تر ہوتے جا رہے ھیں مگر خان صاحب کیساتھ بیٹھے چمچے انہیں سب اچھا ہے کی رپورٹ دے رہے ہیں ۔۔ غریب کل بھی مر رہا تھا آج بھی مر رہا ہے کل بھی ڈائریکٹ ان ڈائریکٹ غریبوں کی جیبوں سے پیسے نکل رہے تھے آج بھی وہ اپنے بچوں کا حق حکومت کو ٹیکس کی مد میں کھلا رہا ہے کسی کا کچھ نہیں جاتا نا ہی منتخب منسٹروں کا نا ہی منتخب جمہوریت کا نا ہی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا نا ہی گیس بجلی پانی والوں کا اگر کسی کا کچھ جا رہا ہے تو وہ غریب ہے جو زندہ رہنے کے لیے اپنی کمائی کا کم و بیش چالیس فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ اور آہ کہ پھر بھی قبرستانوں میں بعد مرنے کے بعد قبر ٨٠ سے ٩٠ ھزار روپے دینے کے بعد ملتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here