طیب ایردوان کی فتح اور جماعتِ اسلامی

(تنویر قیصر شاہد)

یوں تو 14 مئی 2023 کے صدارتی و پارلیمانی انتخابات میں بھی جناب طیب ایردوان اپنے حریف، جناب کیمال کلچ در اولو، پر سبقت لے گئے تھے لیکن دونوں صدارتی اُمیدوار چونکہ ترکیہ آئین کی شرط کے مطابق50فیصد ووٹ حاصل نہیں کر پائے تھے۔

اس لیے دونوں میں سے کوئی بھی ترکیہ صدارت کا تاج نہ پہن سکا۔ حتمی نتیجہ اور فیصلہ حاصل کرنے کے لیے صدارتی دَوڑ کا دوسرا مرحلہ(Run Off) 28مئی2023 کو سامنے لایا گیا۔

اِس رَن آف نے جناب طیب ایردوان کو52فیصدسے زائد ووٹوں کے ساتھ فتح سے ہمکنار کر دیا۔ اگرچہ امریکہ اور مغربی دُنیا کے حکمرانوں اور میڈیا کی یہی خواہش اور کوشش تھی کہ جناب طیب ایردوان کامیاب نہ ہو سکیں لیکن نصرت و کامیابی اللہ نے طیب ایردوان کے مقدر میں لکھ رکھی تھی۔

مغربی میڈیا اب بھی شکست خوردہ ترکیہ صدارتی اُمیدوار، کیمال کلچ دراولو، کی زبان بولتے ہُوئے یہی راگ الاپ رہا ہے کہ ’’ چونکہ طیب ایردوان انتخابات کے دوران منصبِ صدارت پر فائز تھے اور جملہ سرکاری میڈیا اور وسائل اُن کے کنٹرول میں تھے۔

اس لیے ’’جھرلو‘‘ پھیرتے ہُوئے طیب ایردوان کو پھر کامیاب کروا دیا گیا ہے ۔‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تبصرے دراصل مغربی و امریکی دُنیا اور میڈیا کی ترکیہ اور جناب ایردوان کے خلاف عناد اور حسد کا مظہر ہیں ۔

جناب طیب ایردوان جس واضح اسلوب میں اسلام ، اسلامی اقدار اور اسلامی طرزِ حیات پر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں، اِس پس منظر میں امریکی و مغربی دُنیا کا اُن کے خلاف عناد اور پروپیگنڈہ قابلِ فہم ہے۔

طیب ایردوان صاحب نے صدارتی انتخابی مہم کے خاتمے پر جس طرح قدیم اور پُر شکوہ مسجد، جامعہ مسجد حاجیہ صوفیہ ، میں حاضر ہو کر دعا کی اور اپنے چاہنے والوں سے خطاب کیا تھا، یہ انداز اہلِ مغرب کو ایک آنکھ بھی نہ بھایا تھا۔

بعد ازاں جناب طیب ایردوان نے جب شہیدعدنان میندرس کے مقبرے پر حاضری دی تو بھی یہ اسلوبِ سیاست مغربی دُنیا کے میڈیا میں پسند نہ کیا گیا تھا ۔

طیب ایردوان کی شاندار صدارتی و انتخابی فتح پر تبصرہ کرتے ہُوئے بی بی سی کی یورپی ایڈیٹر Katya Adlerنے لکھا: ’’طیب ایردوان کی رَن آف میں صدارتی کامیابی پر رُوسی صدر، ولادیمیر پوٹن، اتنے بیقرار ہو گئے تھے کہ ترکیہ کی سپریم الیکشن کونسل کی جانب سے سرکاری اعلان سے قبل ہی طیب ایردوان کو فتح کی مبارکباد دے ڈالی۔‘‘الفاظ کا یہ لہجہ اور آہنگ ہی بتاتا ہے کہ جناب طیب ایردوان کے تیسری بار صدر منتخب ہونے پر مغربی دُنیا کو کسقدر ذہنی اذیت پہنچی ہے۔

ممتاز و موثر امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے تو باقاعدہ جناب طیب ایردوان کی مخالفت اور جناب کیمال کلچ دارولو کے حق میں صحافتی مہم چلائی ۔

اِس کے باوصف مگر سفارتی آداب اور روایات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہُوئے پاکستان سمیت امریکہ و مغربی دُنیا کے حکمرانوں کی طرف سے فاتح طیب ایردوان صاحب کو مبارکبادیں دی جا رہی ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم جناب شہباز شریف ، صدرِ مملکت جناب عارف علوی ، وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری اور لندن میں براجمان جناب نواز شریف نے طیب ایردوان صاحب کو مبارکبادیں دی ہیں۔

جناب طیب ایردوان نے جس کھلے اور واضح انداز میں مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف، پالیسی اور اُصول پر ہمیشہ ساتھ دیا ہے، پاکستان اور اہلِ پاکستان نے ہمیشہ اُن کا شکریہ ادا کیا ہے ۔

ابھی حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی G20کانفرنس میں بھی محض پاکستانی خوشنودی اور مظلوم کشمیریوں کا ساتھ نبھاتے ہُوئے ترکیہ نے شرکت کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ بھارتی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو ترکیہ کے اِس سفارتی کردار پر غصہ تو بہت ہے لیکن بھارت جناب طیب ایردوان اور ترکیہ حکومت کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ۔

رُوسی صدر کے بعد سب سے پہلے پُر جوش انداز میں مبارکباد سابق امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کی جانب سے اِن الفاظ میں سامنے آئی ہے:’’طیب ایردوان کو شاندار فتح پر دِلی مبارکباد۔ مَیں طیب ایردوان کو خوب جانتا ہُوں۔ وہ میرے دوست بھی ہیں۔

اُنہوں نے ذاتی محنت سے جس طرح اپنے عوام کو اقوامِ عالم میں عزت سے سرفراز کیا ہے، اِس پس منظر میں وہ اِس پُر شکوہ فتح کے حقدار ہیں‘‘۔امریکی صدر ، جو بائیڈن ، بھی طیب ایردوان کو تہنیت دینے میں پیچھے نہ رہے مگر وقت کے اعتبار سے وہ اپنے حریف، ڈونلڈ ٹرمپ، سے بہر حال پیچھے ہی رہے۔

جو بائیڈن نے کہا: ’’طیب ایردوان کو تیسری بار صدرِ ترکیہ منتخب ہونے پر بڑی مبارک۔ آپ ناٹو میں میرے اتحادی ہیں۔ اُمید کرتا ہُوں کہ ایک بار پھر آپ اور ہم ناٹو کے پلیٹ فارم پر، دو طرفہ، اپنا عالمی کردار ادا کریں گے۔ ترکیہ سے ہماری بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں۔‘‘

خوش بخت جناب طیب ایردوان کے تیسری بار فتحیاب ہونے پر یوں تو ہماری سبھی دینی جماعتوں نے مسرت و اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ مثال کے طور پر جے یو آئی (ایف) کے امیر حضرت مولانا فضل الرحمن نے ترکیہ اور جناب طیب ایردوان کو نئی فتح پر سب سے پہلے تہنیت کا پیغام بھیجا۔ جماعتِ اسلامی پاکستان مگر وطنِ عزیز کی غالباً نمایاں ترین مذہبی جماعت ہے جو طیب ایردوان کے تیسری بار شاندار فتح سے ہمکنار ہونے پر خوشی و شادمانی کا واضح طور پر اظہار کررہی ہے۔

جماعتِ اسلامی اور اِس کے جملہ قائدین ویسے بھی بحثیتِ مجموعی جناب طیب ایردوان کی شخصیت ، اُن کے جملہ اقدامات، اُن کی حکومت، اُن کے افکار اور اُن کی پارٹی کو نظرِ استحسان سے دیکھتے ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے معروف اور فکر انگیز ماہنامہ جریدے (عالمی ترجمان القرآن )کا بنظرِ غائر اور باقاعدہ مطالعہ کیا جائے تو بھی یہ رُخ مترشح ہوتا ہے کہ جماعتِ اسلامی طیب اردوان کو ہمیشہ سے پسندیدہ نظروں سے دیکھتی چلی آ رہی ہے۔

جماعتِ اسلامی کے ایک معروف رکن ، مصنف اور سابق رکنِ اسمبلی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، نے ترکیہ بارے جو مشاہدات(سفر نامئہ ترکی) لکھے ہیں ، یہ کتاب بھی ترکیہ اور جناب طیب ایردوان کی محبتوں سے ’’ لبریز‘‘ دکھائی دیتی ہے ۔

اور اب28مئی2023کو جناب طیب ایردوان کے تیسری بار ، بھاری اکثریت سے ، صدرِ ترکیہ منتخب ہونے پر جماعتِ اسلامی پاکستان کی شادمانی اور خوشی دیدنی ہے۔

اِس اظہارِ مسرت میں کوئی مذائقہ بھی نہیں ہے کہ جماعتِ اسلامی کے اکابرین اور وابستگان بجا طور پر جناب طیب ایردوان کو عالمِ اسلام کی مضبوط، غیرتمند اور توانا آواز سمجھتے ہیں ۔مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حق میں طیب ایردوان صاحب نے ہر ہر موقع پر جس طرح آوازئہ حق بلند کیا ہے، یہ دراصل پاکستان اور جماعتِ اسلامی کے مضبوط موقف ہی کی ترجمانی ہے ۔

جناب طیب ایردوان کی فتح کو اپنی فتح سمجھتے ہُوئے جماعتِ اسلامی کے نائب امیر، راولپنڈی و اسلام آباد کی معروف سیاسی شخصیت اور سابق رکنِ قومی اسمبلی ، جناب میاں محمد اسلم ، اگلے روز اپنے ایک وفد کے ساتھ اسلام آباد میں بروئے کار ترکیہ سفارتخانہ حاضر ہُوئے اور ترکیہ سفیر عزت مآب Mehmet Pachachiکو جناب طیب ایردوان کی فتح کی مبارکباد پیش کرتے ہُوئے اُن کی خدمت میں گلدستہ بھی نذر کیا۔

میاں اسلم صاحب کے ساتھ جناب آصف لقمان قاضی( انچارج شعبہ اُمورِ خارجہ) اور جناب نصر اللہ رندھاوا( امیرِ جماعتِ اسلامی اسلام آباد) بھی تھے۔ اگرچہ اِس حوالے سے ابھی پاکستان کی کوئی دوسری مذہبی جماعت کی قیادت ترکیہ سفارتخانہ جا کر مبارکباد پیش نہیں کر سکی ہے لیکن جماعتِ اسلامی نے دراصل یہ قدم اُٹھا کر سبھی جماعتوں کی نمائندگی کر دی ہے ۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ: سرائیکی نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *