Skip to content
  • Thursday, 29 January 2026
  • 3:11 pm
  • Follow Us
saraikinews
  • صفحہ اول
  • قومی
    • کراچی
    • اسلام آباد
    • لاہور
  • دنیا
  • مضمون
    • فیصل شہزاد چغتائی
    • پروفیسر اللہ دتہ قادری
    • پروفیسر اللہ ݙتہ
    • شہزاد حسین بھٹی
  • ٹیکنالوجی
  • کھیڈ
  • شوبز
  • کاروبار
  • About us
    • Privacy Policy
    • Contact Us
    • DMCA
    • Join Us
  • رابطہ
  • Home
  • بحرانوں سے کب جان چھوٹے گی؟
شہزاد حسین بھٹی

بحرانوں سے کب جان چھوٹے گی؟

saraikinews Jan 27, 2020 0

بحرانوں سے کب جان چھوٹے گی؟

جنگ ستمبر 1965ء جب شروع ہوئی تو اس وقت جنر ل ایوب خان کی حکومت تھی اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے گورنر امیر محمد خان تھے۔ گورنر امیر محمد خان لمبی موچھیں تائو دے کر رکھتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ایک موچ میری بدمعاشی ظاہر کرتی ہے جبکہ دوسری میں نے انتظامیہ کے لیے رکھی ہے۔بلا کے اچھے منتظم تھے ،آغاز جنگ میں اعلان کیا کہ کسی تاجر کو ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کسی پر ذخیرہ اندوزی کا الزام ثابت ہو گیا تو وہ میرے انصاف سے بچ نہیں سکے گا۔ انصاف پسند گورنر کا ڈرا اور خوف اس بلا کا تھا کہ تمام ذخیرہ اندوزتاجر اپنے اسٹاک مارکیٹ میںلے آئے اور یوں سترہ روزہ جنگ کے دوران کوئی خوارک کا بحران نہیںہوا۔ گورنر نے حکم دیا تھا کہ میری عوام کو یہ محسوس نہ ہو کہ یہ ملک حالت جنگ میں ہے۔
اب آئیے موجودہ دور میں جہاں گورنس کا یہ عالم ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک بحرانی تحفہ اس ملک کی غریب عوام کے دروازے پر آئے روز دستک دیتا ہے جوکبھی ادویات ،کبھی چینی ، کبھی ٹماٹر ،کبھی آلو، کبھی پیڑول، کبھی سی این جی اور کبھی آٹا بحران کی شکل میںعوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔عوام موسم سرما میں گیس کی قلت سے پہلے ہی سخت اذیت میں مبتلاتھے کہ اچانک ان پر آٹے کی نایابی قہربن کر ٹوٹ پڑی اور اب آگے چینی کا بحران سرا ُٹھا رہا ہے ناجائز منافع خور مافیا ہر دورحکومت میں عوام سے ان کی حلال کی پائی پائی نکلوانے کے درپے ہیں۔پنجاب میں 25لاکھ ٹن گندم کے ذخائر کے باوجود آٹے کے بحران کے ذمہ دار کون؟ وجہ کیا بنی؟حکومت تعین کرنے میں ناکام ہو گئی ہے ۔مافیاز نے کروڑوں روپے کما لیے ہیں۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مجموعی طور پر 36لاکھ ٹن گندم خریدی گئی جبکہ 10لاکھ ٹن گندم گزشتہ سال سے نئے سال میں منتقل کی گئی۔کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے ایک ملین ٹن گندم کا ذخیرہ لازم ہوتا ہے ،بھاری ذخیرہ کے باوجود گندم فلور ملز کو جاری کیوں نہیں کی گئی ؟محکمہ خوراک کے اعلیٰ حکام نے فیلڈ افسران کی طرف سے بروقت بحران کے بارے میں آگاہی کے باوجود فلور ملز کا کوٹہ نہ بڑھا یا جس وجہ سے آٹے کا بحران پیدا ہو ا۔ آٹے کے مہنگے ہونے کی ایک بڑی وجہ ا وپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت کا 22سو روپے تک پہنچنا ہے ، فلور ملز کا کوٹہ نہ بڑھنے کی وجہ سے مارکیٹ میں آٹے کی کمی ہو گئی جس سے گندم کی قیمت میں اضافہ ہوا تو چکی مالکان نے فی کلو قیمت 70روپے کر دی۔بادی النظرمیںآٹے کے بحران کے ذمہ د ار محکمہ خوراک کے اعلیٰ حکام ہیں جن کی غفلت، لاپرواہی اور بدانتظامی کی وجہ سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ اور بحران پیدا ہو ا ہے جبکہ بظاہرملک میںگندم کے ذخائر کی کمی نہیں ۔
بحران کی دوسر ی بڑی وجہ صوبوں اور وفاق میں افسر شاہی اور وزارتوں کے مابین عدم تعاون اور واضح پالیسی موجودہ نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں آٹے اور گندم کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ وزارت خوراک کے ا عداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں مجموعی طور پر 41 لاکھ 44 ہزار ٹن گندم سرکاری گوداموں میں موجود ہے تاہم فلور ملوں اور بڑے زمینداروں کی جانب سے ذخیرہ اندوزی کے باعث مصنوعی بحران نے ملک بھر کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔وفاقی وزارت خوراک کے مطابق ر واں سیزن کے دوران سرکاری سطح پر صوبوں نے کاشتکار سے مجموعی طور پر 40 لاکھ 18 ہزار ٹن گندم کی خریداری کی۔ سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی سرکاری خریداری صفر رہی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق گندم کی کْل خریداری 40 لاکھ 18 ہزار ٹن حجم میں سے 67 ہزار ٹن گندم خریداری کے موسم میں کرپشن کی نظر ہو جاتی ہے۔
حزب اختلا ف کی سیاسی جماعتیںآٹا بحران کو لے کر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیکر اپنی اپنی خفت مٹانے کی درپے ہیں۔ چینی یا آٹا کا بحران ہو تو جہانگیر ترین اور خسرو بخیتار کا نام لیا جاتا ہے کہ ان بحرانوں کے پیجھے یہ بااثر سیاسی شخصیات ہیںکیونکہ شوگر ، فلور ملیں اور گندم کے یہ بڑے مالکان اور زمیندار شمار کیے جاتے ہیں۔ گندم کی در آمد میں تاخیر اور ایران و افغانستان سمگلنگ بھی بحران کی وجہ ہو سکتی ہے۔حکومتی نااہلی بھی آٹا بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔حکومتی ترجمان وزراء بھی اپنی اپنی ہانک رہے ہیں کسی کو کچھ پتا نہیں کہ اصل حقائق کیا ہیں اور ان کا تدارک کیسے کیا جا سکتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ طلب و رسد کو مانیٹر کرنے والے ادارے پلاننگ کرنے میں نااہل ہیںیہی وجہ ہے کہ گندم کے ذخیرہ اور طلب کا اندازہ کئے بغیر حکومت نے برآمد جاری رکھی۔ ملک میںپہلے پانچ لاکھ میڑک ٹن گندم برآمد کی گئی اور اب ذخائر کو مدنظر رکھے بغیر دوبارہ تین لاکھ ٹن درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔یاد رہے کہ پاکستان بیس سالوں میں دوسری مرتبہ گندم درآمد کرے گا۔اس وقت بھی پرویز الہی ، جہانگیر ترین اور خسرو بختیار حکومت کا حصہ تھے اور موجودہ حکومت میں بھی یہ تینوں شخصیات براجمان ہیں۔منگوائی گئی گندم 31 مارچ کو پاکستان پہنچے گی جبکہ سندھ کے زمینداروں کی گندم کی فصل 15 مارچ تک مارکیٹ میں پہنچ جائیگی یو ں مقامی کسان کو نقصان پہنچے گا۔ برآمد اور درآمدکے چکرمیں بھی منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے خوب مال پانی بنایا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کا اعتماد بحال کر نے کے لیے ایسے مثبت اور تعمیری اقداما ت کرے جس سے عام آدمی کا حکومت پر اعتماد بحال ہو۔ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں بے لگام اضافہ کو پرائس مجسٹریٹس کے ذریعے حکومتی نرخوں پر یقینی بنایا جائے ۔ عام آدمی کوریلیف فراہم کرے تاکہ اس کی قوت خرید بحال ہو سکے۔ اگرچہ پرائم منسٹرنے ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جو آٹا بحران کی تحقیقات کرے گی۔میں حکومت سے گذارش کروں گا کہ اگر کوئی مافیا یا حکومتی ادارہ اس بحران میں ملوث پایا جائے تو اسے قرار واقعی سزاء دی جائے چاہے وہ حکومتی صفوں سے ہی کیوں نہ ہو، تاکہ آئیندہ ایسا کرنے کا کوئی سوچ بھی نہ سکے۔حکومت کو انتظامی افسران پر گورنر امیر محمد خان کی طرح کڑی نگرانی رکھنی ہو گی تاکہ وہ عوام کے حقیقی خادم بن کر ڈیلور کر سکیں اور ملک معاشی و معاشرتی سطح پر ترقی کر سکے۔میں حکومت کو خبردار کرتا ہوں کہ اگر حکومت نے اپنی نااہلیوں پر جلد قابو نہ پایا تو پھر حالات افراتفری کی طرف مائل ہو سکتے ہیں جس کا ہمارا ملک متحمل نہیں ہو سکتاحکومت کو ہوش کے ناخن لینے ہونگے۔میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ کسی بھی ایشوکو اندھا دھند رپورٹ کرنے کے بجائے ایسے معاملات کو زیر بحث لائے جس سے تعمیری سوچ پروان چڑھ سکے۔

تحریر : شہزاد حسین بھٹی

saraikinews

Website:

Related Story
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
   غریبی جرم ہے ایسا کہ دیکھ کر مجھ کو
saraikinews May 8, 2020
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
عاصم سلیم باجوہ کی تقرری خوش آئیندقدم
saraikinews May 1, 2020
ٹائیگر فورس
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
رضاکار فورس ۔حقائق و غلط فہمیاں
saraikinews Apr 6, 2020
پاکستان سلامت
شہزاد حسین بھٹی
پاکستان تو سلامت رہے گا
saraikinews Apr 3, 2020
شہزاد حسین بھٹی
ہر َدور کے سلطان نے ستم یہ بھی کیا ہے
saraikinews Mar 19, 2020
تیل کی عالمی گراوٹ پاکستان کے لیے غیبی امداد
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
تیل کی عالمی گراوٹ پاکستان کے لیے غیبی امداد
saraikinews Mar 14, 2020
پی ٹی ایم کے ناپاک عزائم مزید بے نقاب
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
پی ٹی ایم کے ناپاک عزائم مزید بے نقاب
saraikinews Mar 11, 2020
وزیر اعظم کامہنگائی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے 10ارب کا امدادی پیکج
شہزاد حسین بھٹی
وزیر اعظم کامہنگائی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے 10ارب کا امدادی پیکج
saraikinews Feb 14, 2020
منصف جلاد نہیں ہوتا
شہزاد حسین بھٹی
منصف جلاد نہیں ہوتا
saraikinews Dec 25, 2019
شہزاد حسین بھٹی
اٹک میں ای لائیبریری طلباء کی پہنچ سے دُور کیوں؟
saraikinews Dec 11, 2019
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
سلسلہ نقشبندیہ کے پیر ولی کامل محمد فضل الرحمن دامت برکاتہم العالیہ کی رحلت پر ایک تحریر
saraikinews Jul 5, 2019
شہزاد حسین بھٹی
ذوق ۔ ادبی مجلے کا اجراء
saraikinews Jun 26, 2019
شہزاد حسین بھٹی مضامین
بی آئی ایس پی میں مالی بدعنوانی کی مکروہ داستان
saraikinews Mar 25, 2018
تجزیات شہزاد حسین بھٹی
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان خفیہ معاہدہ
saraikinews Jan 10, 2018
تجزیات شہزاد حسین بھٹی
میاں محمد بخش سے َمنسوب شاعری
saraikinews Nov 30, 2017
تجزیات شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
دَرس گاہ کا نوحہ
saraikinews Nov 16, 2017
شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
ٹھیکیدار رکھ لیجئے
saraikinews Mar 17, 2017
تجزیات شہزاد حسین بھٹی مضامین مضمون
نمائیندے یا لفنگے
saraikinews Jan 25, 2017
article
تجزیات شہزاد حسین بھٹی مضمون
دلوں کی حکمرانی اور قرضہ معافی
saraikinews Jan 11, 2017

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

YOU MAY HAVE MISSED
muzafarghar
مظفرگڑھ
مظفرڳڑھ: شوگر مل اچ بھاہ لڳݨ نال ݙو بندے جاں بحق تے ہک زخمی
saraikinews Jan 27, 2026
finance
اسلام آباد
ملکی معیشت مالی سال 2026 اچ ترقی دی رفتار برقرار رکھݨ کیتے موزوں پوزیشن اچ اے، ایں مہینے اچ مہنگائی 5 توں 6 فیصد دی حد اچ رہسی، وزارتِ خزانہ
saraikinews Jan 27, 2026
ali asif
اسلام آباد
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نال آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین دی ملاقات
saraikinews Jan 27, 2026
atta tarar
اسلام آباد
ضلع خیبر دے قبائل سیالے اچ نقل مکانی کریندے رہندن، کے پی حکومت دے ترجمان ایندے تے بے بنیاد بیان ݙیندن، عطاء اللہ تارڑ
saraikinews Jan 27, 2026

Copyright © 2026 | Powered by WordPress | Frankfurt News by ThemeArile

  • About us
  • About Us
  • Services
  • Privacy Policy
  • Careers
    • Portfolio
    • Support
  • DMCA
  • Join Us
  • Contact Us
  • FAQ