قلم کی حُرمت اورآج کے قلم کار

شہزاد حسین بھٹی/ سین

حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور کے ایک نامور عالم دین حضرت عبدالرحیم بن علی عسقلائی جو اپنے نام سے زیادہ” قاضی فاضل” کے نام سے مشہور تھے۔ حضرت سلطان نے اپنے بارے میں مشہور اور تاریخی جملہ ارشاد فرمایا” تمہارا یہ گمان نہ ہو کہ میں نے تمہاری تلواروں سے ملکوں کو فتح کیا ہے! نہیں ہیں بلکہ یہ تو قاضی فاضل کے قلم سے ہوا ہے”۔ یہ حضرت صلاح الدین ایوبی کا جملہ ہے جو جنگوں کے شیر ہیں، ملکوں کو فتح کرنے کے ماہر ہیںاور قلم کے مقام کو بھی جانتے ہیں۔ اگر ہم تاریخ کے سنہرے پنوں پر ایک دفعہ پھر نظر ثانی کریں تو بہت سی عظیم ہستیاں ہمارے سامنے آ جائیں گی جنہوں نے اپنے قلم کی طاقت سے ایسے ایسے وار کیے کہ ظالموں کے تخت و تاج اُلٹ گئے۔ ہر طرف امن اور سچ کی فضاء چل پڑی۔ بے شک قلم کا یہ راستہ طویل تر تھا لیکن روشنی سے بھرپور تھا۔ زندہ قومیں ہمیشہ قلم کو تلوار بنا کر آگے بڑھی ہیں۔ اور خود ہم بھلا کہاں ناواقف ہیں۔ قیام پاکستان کے دوران قلم کاروں کے بے تحاشہ مثبت کردار سے جب تبدیلی کا نعرہ لگا ہے تو ہمارا قلم کار ہی اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔
لوگوں کے شعور کو جگانے میں سب سے اہم کردارہی قلم کے قدر دانوں کا رہا ہے مگر بدقسمتی سے آج قلم کا استعمال ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے اور کچھ قلم کاروں کا قبیلہ ملک کی جڑوں پر قلم چلانے کی کوششوں میں سرگرم ہے۔ قلم کی حرمت کو داغدار کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بگاڑ کی اہم وجہ بھی ایسے ہی قلم کار ہیں جو اپنے ضمیروں کا سودا کرتے ہیں اور خود کو نفع دینے کے عوض چوروں ، ڈاکوئوں ، لُٹیروں اوربدکار سیاست دانوں کو مسیحاء بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ہمارے میڈیا و دیگر صحافی برادری کے کرداروں کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ قلم کی حرمت کے امین ہیں۔ کیا وہ قلم اُٹھاتے اور بولتے وقت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں ؟ کیا وہ عدل وانصاف کے تقاضے پورے کرتے ہیں؟ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ ان سے گذارش ہے کہ

قلم سے آگ بجھائو کہ جل رہا ہے چمن
خموش بیٹھے ہو ،کیسے ادیب لگتے ہو

 

جب میں نے صحافت کے صحرائے خار زار میں عملی طور پر قدم رکھا تو میرے ارد گرد قلم فرشوں کی ٹولیاں جمع تھیں جو چند ٹکوں کی خاطر سیاستدانوں کے قصیدے لکھ کر اخبارات ان کی دہلیز پر پہنچاتے اور اپنے ذاتی مفادات اُٹھاتے۔ کچھ ایسے بھی پولیس کے ٹائوٹ تھے جنہوں نے ضلعی انتظامیہ کی خدمت کابیٹرہ اُٹھا رکھا تھا ۔ ہر روز پولیس کی کارکردگی میں خبریں شائع کروا کر ان سے داد وصول کرتے اور صبح شام تھانے اور کچہریوں کے گرد منڈلاتے رہتے جونہی کوئی شکار ہاتھ آتا انتظامیہ سے قلمی خدمت کے عوض ان کے کام کروا کر چند ٹکے وصول کرتے اورگھر چلے جاتے ۔ ان کا یہ معمول آج بھی اُسی آب و تاب سے جاری ہے۔ فرق یہ پڑا ہے کہ پہلے وہ سائیکل پر پھر موٹر سائیکل اور آج گاڑیوں پر آگئے ہیں۔ان قلم فروشوں نے صحافت کے شعبہ کو داغدار کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے پلازے بھی بنا لیے ، کوٹھیاں بھی بنوالیں۔ اپنی اولادوں کوسرکاری محکموں میں بھرتی بھی کروا لیا او رآج بھی قلم فروشی سے باز نہ آئے ۔ قلم حرمت کو داغدار کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ قلم کا غلط استعمال پر خدا کے ہاں پکڑ ہو گی۔ آپکے لفظوں کا وہاںبھی حساب ہو گاکہ قلم کے ذریعے جہاد کا حکم خدا نے قرآن پاک نے جو واضح طور پر دیا ہے ایسے نام نہاد قلمکاروں کو سوچنا ہو گا کہ جس کی قسم خود خدا نے کھائی ہے اسکے تقاضے کیا ہیں؟ اسکی حرمت کیا ہے؟بے حرمتی کرنے والے کو کیا سزاء ہو سکتی ہے۔

جہاں معاشرے کے ناسور جڑے ہیں وہیں قلم کی شان و حرمت کا پاس رکھنے والے صحافی بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اس قوم کا افق پر روشن ہیں جن کے قلم کی روشنی ہمیں اور ہم جیسے سوچنے اور سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ قلم کی بے حرمتی پر کڑھتے ہیں، دل جلاتے ہیں اور اپنا حصہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔جہاں قلم کی حرمت کو داغدار کیا جارہا ہے وہیں قلم کی حرمت کے عین مطابق قلم کا استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں امن امید او ر استحکام کا پیغام اپنے خوبصورت اورتاثیر سے لبریز لفظوں کے ذریعے ہم تک پہنچا رہے ہیں۔ بلاشبہ وہی ہمارا غرور اور فخر ہیں۔ وہی ہیں جن کے لفظ موتی کہلاتے ہیں وہی ہیں جن کو حق کا علمبردار بھی کہوں تو غلط نہ ہو گا۔

بدقسمتی سے علاقائی صحافت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ جہاں پر پرائمری پاس، مڈل پاس صحافی بنے ہوئے ہیںحتیٰ کہ ان پڑھ لوگ تو کل تک اخبارات بیچتے تھے آج صحافی بنے ہوئے ہیں۔ اخبارات مالکان نے علاقائی صحافیوں کے لیے کوئی تعلیمی قید نہ رکھ کر زیادتی کی ہے جسکی وجہ سے علاقائی صحافت کاحشر نشر ہو گیا ہے۔چپڑاسی کے لیے تو تعلیمی قابلیت کی حد مقر ر ہے لیکن صحافی بننے کے لیے کسی اہلیت کا ہونا ضروری نہیں۔ کوئی بھی کچھ پیسوں کے عوض اخبار کا کارڈ لیکر دیار صحافت کا دروازہ کھٹکا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ چھوٹے اخبارات تک محدود نہیں بلکہ بڑے ادارے بھی اس میں شامل ہیں۔میری تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز مالکان سے اپیل ہے کہ علاقائی صحافت کے حوالے سے صحافیوں کے لیے کچھ تو تعلیمی قابلیت کا معیار رکھیں تاکہ قلم فروشوں کے گروہوں سے صحافت کو پاک کیا جا سکے۔ علاقائی صحافت کے لیے اگر تعلیم کا معیار میڑک ہی رکھ دیا جائے تو میںاپنے ضلعے کے بارے میں کہی سکتا ہوں کہ نوے فیصد نام نہاد ان پڑھ صحافیوں سے اٹک کے عوام کو نجات مل جائے گی جو اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر پریس کی پلیٹیں لگا کر جو مشکوک سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔
بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہمارے ملک میں کہ صحافت میں منشیات فروش سے لے کر جسم فروشی تک میں ملوث لوگ صحافت کی آڑ میں یہ گھنائونے جرائم کر رہے ہیںان کے ان جرائم کا حساب روز قیامت اخبارات و ٹی وی مالکان کو بھی دینا ہوگا جن کی آڑ میں یہ لوگ قلم کی حرمت کو پامال کر رہے ہیں ۔ آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دلوں پہ گذرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہل ستم مشق ستم کرتے رہیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.