ایک طرف ویکسین اور ایک طرف بھوک کا طوفان

0
184
ویکسین
ایک طرف ویکسین اور ایک طرف بھوک کا طوفان
تحریر : فیصل شہزاد چغتائی
 
 
٣ کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل شہر میں شہریوں کو ویکسین لگوانے کے لیے جانور جیسا سلوک روا نہ رکھا جائے ہر یونین کونسل میں ایکسپو سینٹر لیول کے ویکسین سنٹر بنائے جائیں اور ایس او پیز کا خیال رکھا جائے۔ ایک طرف تو سندھ حکومت حکم نامے جاری کیے جا رہی ہے دوسری طرف اتنی بڑی آبادی کو ویکسین لگانا بھی ایک ٹارگیٹ ہے ، سم بند کرنے، کاروبار ، سفری سہولت بغیر ویکسین والے کے لیے بند کرنا مسئلے کا حل نہیں، وسائل مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے ویکسین اگر انسانی زندگی بچانے کے لیے ضروری ہے تو موجودہ وسائل دستیاب ہیں تو اس سے اگر ٢٥ لاکھ لوگو بھی ویکسین سے مستفید ہو سکیں تو بڑی بات ہے مگر جو حالات ویکسین لگوانے والی جگہوں کا نظر آ رہا ہے وہ کسی بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے ، کسی قسم کا کوئی فاصلہ نہیں رکھا جا رہا کوئی ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہا اور نہ ہی کوئی کسی قسم کی حکومتی مشنری ہے جو ایس او پیز پر عملدرآمد کروائے۔
دوسری جانب اگر دیکھا جائے اگر حکومت ویکسین کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر پابندی عائد کر سکتی ہے تو اس سے ٹیلی کام انڈسٹری تین کروڑ کی بجائے ٢٠ لاکھ ایکٹیو صارفین پر آ جائے گی مطلب کی ٹیلی کام انڈسٹری کا دیوالیہ نکلنے والا ہے اور جو چھوٹے کاروباری حضرات ہیں جن کے سم کنشن بند ہونگے اس تے تجارت کو نقصان پہنچے گا ، سم کنکشن کی ایک واحد ایسا رابطے کا سلسلہ ہے جس سے سوشل فاصلہ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، گھروں تک محدود رہا جا سکتا ہے ، اتنی بڑی آبادی کے شہر میں سے اگر ٣ کروڑ میں سے بڑا تیر مار کر بھی ایک کروڑ لوگ ویکسین لگوا لیتے ہیں تو دو کروڑ لوگوں کو گھروں میں نظر بند کر دینا ، ان پر سفری سہولت ، موبائل سم ، کاروبار اور دیگر سہولتوں کے در بند کر دینا ایسا ہے جیسے کشمیر میں کشمیریوں کو گھروں میں نظر ند کر دیا گیا۔
حالات کچھ اس سے منفرد نہ ہوں گے، ایسے اقدام پر عملدرآمد سے پہلے حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ وہ کیا کرنے جا رہی ہے ۔ بجائے کراچی کی یونین کونسل میں بڑے بڑے کیمپ ویکسین کے لیے لگوانے کے لوگوں کو ایک ایسی اذیت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جس سے وہ اپنی خاندان کی جان کو بیماری کے قریب لیے جائے گا ، ویکسین لگوانے لگوانے کے دوران جو اس وقت گہما گھمی ہے اس میں اگر کچھ لوگ واقعی بیمار ہیں اور اس مہلک بیماری کے مریض ہیں تو ان سے صحت مند خاندان بہت بڑے پیمانے پر متاثر ہو سکتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت یا سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔ ملک پر ھزار ہا مشکلات آ جاتی ہیں مگر ان کے حل بھی نکلتے ہیں ، لوگ ابھی تک پہلے والے لاک ڈاون کے سلسلے سے متاثر ہونے کے بعد نہیں سنبھل سکے اب یہ نیا سلسلہ نہ جانے کتنے خاندانوں کو مزید اجاڑ دے گا، سندھ میں اچانک سے اتنے زیادہ کیسوں کا بڑھ جانا مطلب ایمرجنسی ہے تو جب کسی ملک یا شہر میں ایمرجنسی لگتی ہے تو تمام تعلیمی ادارے ، ہسپتالوں میں امدادی کارروائیاں شروع کی جاتی ہیں نہ کہ عوام کی سہولتیں جو وہ اپنے پیسوں سے خریدتے ہیں بند کی جائیں۔
سم ہو ، بینک اکاونٹ ہوں ، کاروبار ہوں سب عوام کی ملکیت ہیں عوام صبح سے شام تک ٹیکس دیتے ہیں، اس ٹیکس کے بدلے سہولت کے بدلے انہیں جانوروں کی طرح سمجھ کر ھکلا جائے تو یہ بہتر انداز نہ ہوگا اور اس کے نتائج مزید حالات مشکل میں لے جائیں گے جب لوگ مزید بے روزگار ہوں گے تو سڑکوں پر نکلیں گے احتجاج ہوں گے، دھرنے ہوں گے اس سے کسی اور کو نہیں ہماری معیشت کو نقصان پہنچے گا، جس پاکستان کو ترقی کی راہ پر دیکھانا چاہتے ہیں اس پاکستان کے باشندوں کو تحفظ فراہم کیا جائے انہیں سہولتیں دی جائیں انہیں ویکسین دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی گھروں میں عزت و احترام کیساتھ لگائی جائے تاکہ بیماری پر قابو پایا جا سکے، مگر پھر وہی بات کہ اتنی بڑی آبادی پر مشتمل لوگ کس طرح ١٠٠ فیصد ویکسین لگوا سکیں گے۔؟ ابھی تک کوئی ایسا مثبت لائحہ عمل طے نہیں گیا گیا، دوسری طرف جو گرانفروش ، منافع خور ، ذخیرہ اندوز ملک کو کھائے جا رہے ہیں ان کے لیے یہ فارمولا آج تک کیوں استعمال نہیں کیا گیا اتنی دکانیں آج بھی ہر محلے میں چل رہی ہیں جن کا کوئی حساب کتاب نہیں نہ وہ ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی بازگشت کی جاتی ہے ہاں جب سندھ حکومت تھوڑا رویہ سخت کرتی ہے تو شاہی پولیس کی کمائی کا دورانیہ شروع ہو جاتا ہے ، مطلب بڑا دکاندار روزانہ کا تین ھزار اور چھوٹا دکاندار پانچ سو سے ٢ سو روپے روزانہ کا بھتہ دیتا ہے اور کچھ کمانے کے قابل رہتا ہے ، جو ویکسین لگنے کے بعد کارڈ بنا کر دیا جائے گا وہ کب تک کار آمد ہوگا اس کا تو کچھ نہیں کہا جا سکتا ھاں البتہ یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ سندھ پولیس کو کھل کر کمانے کی سند مل جائے گی اور وہ جس شہری سے چاہے ٥٠٠ سے ھزار دے کر کمائی کا سلسلہ ضرور بنائے گے، یا تو اب سندھ حکومت ان پولیس والے چیلوں کو کہیے کہ جو بھتہ لیا جائے اسے قومی خزانے میں جمع کروایا جائے تاکہ صوبائی سطح پر بھی فوائد میسر ہو سکیں اگر ایسا نہیں کر سکتے تو سب سے پہلے تو ان نیکے تھانیداروں کی لگام کو کسنے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی شہری کو ناحق تنگ نہ کریں اور بلیک میلنگ کا سلسلہ نہ شروع کیا جائے ۔
تین کروڑ کی آبادی سے ١ کروڑ آبادی اگر ویکسین لگوا بھی لیتی ہے تو ان ایک کروڑ شہریوں کو یا تو کسی علیحدہ جگہ پر رکھا جائے تاکہ وہ متاثر نہ ہوں ، کیونکہ یہ ایک کروڑ لوگ دوبارہ سے بازار مارکیٹ جاتے ہیں تو دو کروڑ پر مشتمل آبادی اگر انفیکٹڈ ہے تو یہ تمام ویکسین والے افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس میں ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
 
کراچی ایسے گنجان آباد شہر میں جہاں ہر گلی میں ھزاروں ، لاکھوں خاندان آباد ہیں ہونا تو یہ چاہئے کہ سندھ حکومت محلے کی سطح پر ویکسین کو سلسلہ شروع کرے اور یہ سلسلہ رات نو بجے کے بعد سے صبح ٥ بجے تک رکھا جائے تاکہ خاندان کے ہر فرد اور ہر ممبر کو گھر پر ویکسین لگ سے اور زندگی بھی آمدرفت میں رکھی جا سکے ۔ بصورت دیگر سم کنکشن ، بینک اکاونٹ ، سفری آمدورفت ، کاروبار کی بندش کر دی جائے جس سے بچے کچے خاندان اپنی موت کا انتظار کرنے کے لیے گھروں میں قید ہو جائے۔
 
اتنی خطرناک بیماری سے لڑنے کے لیے جہاں دنیا میں جدوجہد جاری ہے وہاں ہمارے ملک میں قصائیوں سی صورتحال نہ پیدا کی جائے لوگ ھزارھا قطار ایس او پیز کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ویکسین لگوانے کے منتظر ہیں کبھی ایکسپو سینٹر اور کبھی کسی سینٹر اور کبھی کی سینٹر ، اب ہر خاندان اپنی خاندان کو بیماری کی نظر نہیں کر سکتا، سندھ حکومت خصوصی اس طرف نظر ثانی کرے اور اگر ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کروا سکتی تو شہریوں کو احترام کیساتھ گھروں پر ہی ویکسین کا سلسلہ کیا جائے۔
 
جس سلسلہ سم کنکشن اور دیگر بند کرنا کا کہا جا رہا ہے اس سے مزید کاروبار اور انڈسٹری تباہی کی طرف دھکیلے جانے کی نوید ہے جس کا کسی قسم کا فائدہ نہیں نقصان ضرور ہوگا ہم مزید مقروض ہوتے جائیں گے جب کاروبار نہیں ہونگے تو کون ٹیکس دے گا۔ اور پھر جب نظر بند ہی کر دیا جانا ہے اتنی بڑی آبادی کو تو کب تک نظر بند رہی گی ایک دن جب اناج و دیگر وسائل ختم ہونگے تو یہ خاندان بچوں سمیت سڑکوں پر آہ و بکار کرتے نظر آئیں گے جو جنگ سا منظر پیش کریں گے۔
خدارا پاکستان میں بسنے والے شہریوں خصوصا کراچی کے شہریوں کو بھیڑ بکریاں سمجھنے کی بجائے انہیں سہولیات فراہم کی جائے ویکسین سینٹرز ہر گلی محلے اور ہر شہر میں کیمپس لگائے جائیں ۔ ایمرجنسی نافذ کی جائے لوگوں کو سہولیات فراہم کی جائے جو لوگ نظربند ہو جائیں انہیں گھروں پر بلا تفریق راشن فراہم کیا جائے۔ اور جن کے سم کنکشن بند ہو، بینک اکاونٹ بند ہوں ، سفری سہولت بند ہو اسے جینے کا رستہ فراہم کیا جائے۔ جو خاندان تندرست ہیں انہیں تحفظ فراہم کیا جائے ایس جگہیوں پر جہاں ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کرایا جا سکتا وہاں عوام کو دھکیلنا انہیں موت کی طرف بھیجنے کے برابر ہے۔
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here